خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 466 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 466

خطبات ناصر جلد ششم ۴۶۶ خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء میں سے پہلی بات علم ہے یعنی خدا تعالیٰ اور اس کی صفات کی معرفت اور عرفان اور ان صفات کے جلوؤں پر غور کرنا جو اس نے انسان کے سامنے اپنے کلام میں ظاہر کئے اور جو خدا تعالیٰ اپنے اس تعلق میں ظاہر کرتا ہے جو اس کے نیک بندے اس سے حاصل کر سکتے ہیں مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے اس پر غور کرنے سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کتنا پیار کرنے والا ، خدا تعالیٰ کس رنگ میں ربوبیت کا مظاہرہ کرنے والا اور خدا تعالیٰ کس طرح اپنی رحمانیت کے جلوے انسان پر ظاہر کرنے والا ہے، علی ہذا القیاس۔اور اس معرفت اور عرفان کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک تو حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف ہمیں توجہ ہوتی ہے اور ہم عبادت کو اس کے پورے حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور دوسرے بنی نوع انسان کے آپس کے تعلقات میں شریعت محمدیہ اور شریعت حقہ اسلامیہ کے مکارم کو اپنانے اور خدا کے پیدا کردہ انسان کے ساتھ اُس سلوک کے کرنے کی طرف ہمیں توجہ ہوتی ہے جس سلوک کا حکم قرآن کریم کی شریعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ اور ارشادات میں ہمیں نظر آتا ہے۔پس وسیلہ ، یعنی خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کی جو راہ ہے اس کے تین طریقے بتائے گئے ہیں ، تین راہوں کی تعین کی گئی ہے جو خدا تعالیٰ کے قرب تک لے جانے والی ہیں ایک علم ہے یعنی معرفت اور عرفان ، دوسرے اس کا تقاضا عبادت اور حقوق اللہ کی ادائیگی ہے اور تیسرے مکارم شریعت کے مطابق انسان کے ساتھ حسن سلوک اور خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق کے ساتھ وہ برتاؤ ہے جیسا برتاؤ کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا ہے کہ ہونا چاہیے اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور ارشادات میں ہمیں نظر آتا ہے۔یہ تین باتیں جو اس وسيلة “ کے اندر آتی ہیں اس کے تین دشمن ہیں اور جس وقت انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی راہ میں روک بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم رسول ایک کامل اور مکمل شریعت لے کر دنیا کی طرف آیا، ایک ایسی شریعت لے کر جس نے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا اتمام کر دیا اور ان کی تکمیل کر دی تو اس کے بعد یہ نہیں ہوا کہ کوئی مقابلے میں کھڑا نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد یہ ہوا کہ