خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 465 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 465

خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء مشاہدہ ہے وہ بھی علم کا ذریعہ بنتا ہے۔اسی واسطے قرآن کریم نے کہا ہے کہ تقویٰ کوئی مختصر اور چھوٹا سا مقام نہیں ہے کہ جہاں پہنچ گئے اور بس بلکہ تقویٰ کے بے شمار مدارج ہیں اور انسان درجہ بدرجہ تقویٰ میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کوئی شخص تقویٰ کے کسی مقام پر بھی پہنچ جائے اگر اس نے اپنے تقویٰ کو قائم رکھنا اور تقویٰ کی منازل میں ترقیات کا حصول کرنا ہے تو وہ قرآن کریم سے بے تعلق نہیں ہوسکتا۔پس خدا تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے ، اس کی رضا کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ کی صفات کا علم حاصل کرنے کے متعلق ہمارے گھروں میں باتیں ہونی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات کے اصولی پہلوؤں کے متعلق بھی اور ان کے تفصیلی پہلوؤں کے متعلق بھی اپنی کتب میں اور تقاریر اور ملفوظات میں بیان کیا ہے لیکن ہم اس سے غفلت برتنے لگ جاتے ہیں۔ہمارے ماحول میں ، ہماری مجالس میں اور ہمارے گھروں میں خدا تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ ہی اپنی صفات اور اپنی ذات کے متعلق ہمیں بتا سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں بتا سکتا۔پس جس رنگ میں خدا تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کا ذکر قرآن کریم میں بیان کیا اور جس رنگ میں اس کی تفسیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تفسیر کے مطابق ان باتوں کو ہمارے سامنے رکھا اس کا ذکر بڑوں میں، چھوٹوں میں، مردوں میں اور عورتوں میں ہوتے رہنا چاہیے کیونکہ اگر یہ پہلو یعنی خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق علم اور معرفت رکھنا جو کہ پہلا پہلو اور بنیادی چیز ہے اگر یہ نہ ہوگا تو اتقوا کا جو حکم ہے کہ خدا کی پناہ میں آجاؤ اور اپنی ترقیات کے لئے اور اپنی جنتوں کے حصول کے لئے اس کے قرب کو حاصل کرو یہ حکم پورا نہیں ہو سکتا۔اس علم کے نتیجہ میں پھر آگے دو چیز میں پیدا ہوتی ہیں ایک عبادت ہے خدا تعالیٰ کے حضور انسان کا سر جھک جاتا ہے اس کو ہم حقوق اللہ کی ادائیگی کہتے ہیں اور دوسرے مکارمِ شریعت پر عمل کرنا ہے۔الغرض وسيلة “ کے لئے یعنی قرب الہی کے حصول کے لئے تین باتیں بتائی گئی ہیں ان