خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 467
خطبات ناصر جلد ششم ۴۶۷ خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء رؤسائے مکہ نے اپنی میانوں سے تلوار میں نکال لیں وہ یہ سمجھے کہ شاید تلوار کے ساتھ ہم خدا تعالیٰ کے اس سلسلہ کو ، خدا تعالیٰ کے ”اسلام“ کو ، خدا تعالیٰ کی کامل اور مکمل شریعت کو اور اس کامل اور مکمل شریعت کے لانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نا کام اور نامراد کر دیں گے۔اُنہوں نے یہ سمجھا اور اُنہوں نے تلواریں نکال لیں لیکن اسلام کو ناکام کرنے کے لئے صرف ظاہری دشمن کی مادی طاقت کا مظاہرہ ہی تو نہیں ہوا، صرف تلواریں ہی میانوں سے نہیں نکلیں، صرف کمانوں پر چلتے نہیں چڑھائے گئے اور ان میں تیر نہیں رکھے گئے ،صرف نیزوں کی انیوں کو تیز نہیں کیا گیا ، صرف گھوڑوں کی پرورش نہیں کی گئی جن پر سوار ہو کر مسلمانوں کے قتل کرنے کا اُنہوں نے منصوبہ بنایا تھا بلکہ اس ظاہری دشمن کے ساتھ ساتھ ایک مخفی دشمن بھی مقابلہ پر آ گیا۔مذہب کی اصطلاح میں اس کو شیطان کہتے ہیں۔شیطان اپنا کام کا فر کے ذریعے بھی کرتا ہے اور شیطان اپنا کام منافق کے ذریعے بھی کرتا ہے۔وہ دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، وہ جھوٹی افواہیں پھیلاتا ہے، وہ غلط باتیں منسوب کرتا ہے، خدا تعالیٰ کی وحی میں جو کلے ہیں قرآن کریم میں جو الفاظ آئے ہیں وہ ان کو اپنی جگہ سے ہلا کر اور معانی کو بدل کر دنیا کے سامنے پیش کرتا اور انسان کے دل میں غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔اور پھر انسان کے اندر بشری کمزوریاں ہیں یہ صداقت کا اور خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں پروئے جانے والوں کا تیسرا دشمن ہے جو کھڑا ہوتا ہے۔یہ ہر شخص کا اپنا نفس ہے۔اسی واسطے قرآن کریم نے کہا کہ وَ جَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ امام راغب کہتے ہیں کہ اس جہاد اور مجاہدہ میں تینوں دشمنوں کا مقابلہ آ جاتا ہے، ظاہر دشمن کا بھی ، شیطانی وساوس کا بھی اور اپنے نفس کی کمزوریوں کا بھی (جو کہ شہوات دنیا کی طرف مائل ہو جا تا اور دنیا کے لالچ کی طرف پھسلتا اور تباہی کے سامان پیدا کرتا ہے )۔پس جہاں خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کا عرفان حاصل کرنا ضروری ہے اور قرآن کریم نے اسے بیان کیا وہاں اس کے مقابلہ میں تین دشمن بھی ہیں ایک نے کہا کہ سر پھوڑ دیں گے تمہارا اگر تم نے نمازیں پڑھیں۔چنانچہ کی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمبا عرصہ چھپ چھپ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور وہ معرفت اور علم، اتنا عظیم علم ! اتنا حسین علم ! ایسا علم