خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 464
خطبات ناصر جلد ششم ۴۶۴ خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ رب ہے نیز قرآن کریم نے دوسری بہت ساری صفات بیان کی ہیں جن کا تعلق انسان کی زندگی کے ساتھ ہے ان میں سے بعض بنیادی ہیں اور بعض ان سے تعلق رکھنے والی ہیں۔اس کے ساتھ ہی یہ کہا کہ میری صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرو اور میری صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔اب اگر انسان رب کی ربوبیت کا علم ہی نہیں رکھتا ، اسے اس کی معرفت ہی حاصل نہیں۔اس رنگ کو وہ پہچانتا ہی نہیں تو اپنی ذات پر اور اپنی صفات پر وہ اس رنگ کو کیسے چڑھائے گا۔یہ واضح بات ہے کوئی گہری اور دقیق بات نہیں ہے کہ جب تک رنگ کی پہچان نہیں اس رنگ کو اپنے نفس کے اوپر چڑھایا ہی نہیں جاسکتا۔اب ربوبیت رب العالمین کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں تک انسان کی طاقت ہو وہ ہر مخلوق کی نشو و نما کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرے جہاں تک کہ انسان کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو رب ہونے کی حیثیت سے اگر کسی چیز کو پیدا کیا تو اس کو قومی اور طاقتیں بھی دیں اور ان کی نشوونما کے سامان بھی پیدا کئے۔پس جو شخص صفت رب العالمین کی معرفت اور علم رکھتا ہے وہ تو یہی رنگ اپنے پر چڑھائے گا اور وہ کسی شخص کو اس کے حق سے محروم نہیں کرے گا لیکن جو شخص اس صفت کا علم ہی نہیں رکھتا اسے اس کی معرفت ہی حاصل نہیں وہ اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتا اور یہ بنیادی حکم کہ میری صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ اور اس کے مطابق دنیا سے یعنی اپنے بھائی بندوں سے اور دوسری مخلوق سے سلوک کرو وہ اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتا۔پس خدا تعالیٰ کو اپنی حفاظت کے لئے ڈھال بنانے ، خدا تعالیٰ کے قُرب کی راہوں کو حاصل کرنے کے لئے اس کی پناہ میں آجانے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو خدا کے فضل سے حاصل کرنے کے لئے جو ذریعہ ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کہ اس وسیلہ کو تلاش کرو جو خدا تعالیٰ نے تمہارے سامنے رکھا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ وہ تین باتیں ہیں۔ان میں سے پہلی بات علم اور معرفت اور عرفان کا حصول ہے۔علم نقلی اور سماعی بھی ہے یعنی روایت اور پہلوں کے مشاہدے سے انسان علم حاصل کرتا ہے اور پہلوں کے مشاہدات اور ان کے تجربوں کے نتائج سے غفلت برت کر خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا اور ایک اس کا اپنا