خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد ششم ۴۶۳ خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء راہ اور جو ذریعہ ہے وہ ایک تو علم و معرفت ہے اور دوسرے عبادت ہے اور تیسرے ہے مکارم شریعت کو اختیار کرنا۔جیسا کہ دوسری جگہ بتایا ہے علم و معرفت، خدا تعالیٰ کی ذات کو پہچاننا اور اس کی صفات کا عرفان رکھنا بہت ضروری ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے عبادت اور مکارم کے لباس میں خود کو ملبوس کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ قرب اور وسیلہ کے حصول کے لئے جو راستہ اور سبیل ہے وہ تین قسم کی ہے۔ایک تو صحیح روحانی علم کا حاصل ہونا، معرفت کا حاصل ہونا ، دوسرے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کرنا اور تیسرے شریعت حقہ اسلامیہ کے مکارم کو اختیار کرتے ہوئے اپنی روح اور اپنے ذہن اور اپنے عمل اور اپنے عقیدہ میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ان تین چیزوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی ڈھال بن جاتا ہے اور اسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے۔اگر انسان کو خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت نہ ہو تو اس نے خدا کو پہچانا ہی نہیں اس لئے اس کے قرب کی راہوں کی تلاش وہ صحیح معنی میں کر ہی نہیں سکتا۔اسی لئے آپ کو دنیا میں ایسے لوگ بھی نظر آئیں گے جو زبان سے تو یہ دعویٰ کر رہے ہوں گے کہ وہ خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت کی معرفت رکھنے والے ہیں لیکن وہی لوگ جب مقبروں میں جاتے ہیں تو قبروں کو سجدہ کرنے لگ جاتے ہیں اور جب اپنے بزرگوں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں ارباب سمجھنے لگ جاتے ہیں اور ان کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ہزار بت اپنے سینوں میں اُنہوں نے سجائے ہوئے ہیں اور ہزار بت کے گردان کا طواف ہے اور زبان سے یہ دعویٰ بھی ہے کہ ہم خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے ہیں۔یہ تضاد ہمیں اس لئے نظر آتا ہے کہ بنیادی طور پر انہیں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت حاصل نہیں اور چونکہ انہیں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا ، اس کے احد ہونے کا عرفان ہی حاصل نہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت اور اس کا علم جن باتوں کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کو پورا نہیں کرتے اور پورا کر ہی نہیں سکتے کیونکہ انہیں علم ہی نہیں کہ خدائے واحد و یگانہ کی معرفت کے بعد انسان پر کیا ذمہ داریاں عائد