خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 296 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 296

خطبات ناصر جلد ششم ۲۹۶ خطبہ جمعہ 9 جنوری ۱۹۷۶ ء ہیں، دعاؤں سے ان کی مدد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول کرے گا اور ان کی کوششوں کو حسین بنا کر پیار کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگ جائے گا۔اسی طرح امریکہ میں وہ پاکستانی احمدی بھی ہیں جن کے دلوں میں مرض تو ہے لیکن جنہیں ہم منافق نہیں کہہ سکتے۔ان کے متعلق میں یہ کہوں گا کہ آپ میں سے وہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کا وافر حصہ عطا فرمایا ہے ان کا فرض ہے کہ ایسے کمزور لوگوں کی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کریں تا کہ جتنا وقت ایسے لوگ منافقانہ ماحول میں گزارتے ہیں اس سے زیادہ وقت وہ آپ کی صحبت میں رہ کر اپنے آپ کو سنوارنے میں خرچ کرنے لگیں۔پاکستانی احمدیوں میں بعض پورے منافق بھی ہیں یعنی ایسے لوگ بھی ہیں جن کو قرآن کریم نے منافق کہا ہے اور جن کا ذکر قرآن کریم نے منافقانہ گروہ کے ذکر میں کیا ہے۔غرض ان تمام عادتوں اور فتنوں اور مصلح ہونے کے تمام دعاوی کے ساتھ وہاں بعض منافق ہیں اور ہم ان کو جانتے ہیں لیکن یہ منافق تو آپ کے راہبر و رہنما نہیں اور نہ ہی وہ آپ کے لئے نمونہ ہیں۔ان کے بداثر سے بچنے کی آپ کو دعا مانگنی چاہیے یعنی یہ دعا مانگنی چاہیے کہ ان کی بدصحبت سے امریکہ کے کسی احمدی میں بھی نفاق کا مہلک مرض پیدا نہ ہونے پائے۔آپ کو یہ دعا بھی مانگنی چاہیے اور تدبیر بھی کرنی چاہیے کہ ان کی منافقانہ حرکات سے جماعت میں کمزوری نہ پیدا ہو۔اسی طرح آپ کو یہ دعا بھی مانگنی چاہیے اور تدبیر بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نفاق کو دور کرے اور اس مہلک اور روحانیت کو تباہ کرنے والی بیماری سے ان کو شفا دے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں شامل ہو جائیں۔جیسا کہ اسلامی تاریخ سے ہمیں پتہ لگتا ہے ایسا ممکن ہے کیونکہ جس طرح ایک شخص جو مقرب الہی ہے وہ اپنے غرور کے نتیجہ میں حصول قرب کے بعد اللہ تعالیٰ سے دوری کی راہوں کو اختیار کر لیتا ہے اسی طرح ایک منافق اپنے پورے نفاق کے باوجود عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اصلاح نفس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث بھی ہو جاتا ہے۔پس جہاں تک منافقین کا تعلق ہے ہمیں ان کے بارہ میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ان کی اصلاح کے لئے کوشش اور دعا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے لیکن ان کے بداثر سے بچنا بھی