خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 297
خطبات ناصر جلد ششم ضروری ہے۔۲۹۷ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۷۶ء اس وقت امریکی وفد کے ساتھ جو دوست مقرر ہیں وہ ان کو بتا دیں کہ میں نے مختصراً یہ باتیں ان کے لئے کہی ہیں ویسے تو یہ باتیں ایسی ہیں جن کا تعلق ساری جماعت سے ہے۔ہماری یہ دعا ہے اللہ تعالیٰ جماعت کو سچ مچ اور واقع میں اس جنت کا وارث بنادے جس کے وارث ثبات قدم دکھانے والے اور ربنا الله ! ربنا الله !! کہنے والے مومن ہوتے ہیں یہی وہ جنت ہے جس کا قرآن کریم میں کثرت سے ذکر آتا ہے اور جس کے متعلق اتنی بشارتیں ہیں کہ ہم ان کو بیان نہیں کر سکتے۔اتنی بشارتیں ہیں کہ ان کا وہ حصہ جو ہم پالیتے ہیں اس کا بھی شکر ممکن نہیں ہے اور نہ وہ الفاظ ملتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے احسانات کا کماحقہ شکر ادا کر سکیں۔اللہ تعالیٰ تھوڑے کو قبول کر لیتا ہے۔اسی واسطے اس نے کہا ہے میں اپنے نیک بندوں کو دس گنا زیادہ اجر دیتا ہوں، ۷ ۲ گنازیادہ اجر دیتا ہوں۔مختلف احادیث میں مختلف اضافوں کے ساتھ اجر دینے کا ذکر ہے لیکن اس محدود زندگی کے بدلے میں جس ابدی جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس میں تو کوئی نسبت قائم نہیں رہتی۔سب نسبتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔جو قائم رہنے والی چیز ہے وہ اللہ کی ذات اور اس کی رحمتیں ہیں۔خدا تعالیٰ ہمیشہ ہی ہم پر اپنی رحمت کا سایہ رکھے اور اس سے دوری کا فتنہ ہماری راہ میں روک نہ بنے۔روزنامه الفضل ربوہ ۱ ارجون ۷ ۱۹۷ ، صفحہ ۲ تا ۴)