خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 292 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 292

خطبات ناصر جلد ششم ۲۹۲ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۷۶ء دیا ہے یعنی اللہ پر جو رب العالمین ہے اور دیگر صفات حسنہ سے متصف ہے اور جس کے اندر کوئی نقص یا برائی ، کوئی خامی یا کمی نہیں ہے مگر رب العالمین پر ایمان کا صرف دعوی کافی نہیں قرار دیا گیا بلکہ فرمایا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا ( حم السجدۃ: ۳۱) گویا اس دعوی کے ساتھ استقامت کی شرط رکھی گئی ہے چنانچہ اس آیہ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوں کو جس جنت کا وعدہ دیا گیا ہے وہ اُن کو تبھی مل سکتی ہے جب وہ رب العالمین پر ایمان کے ساتھ استقامت بھی دکھا ئیں۔استقامت کے معنے یہ ہیں کہ رب العالمین نے انسانی ترقیات کے لئے جو سیدھی راہیں متعین کی ہیں ان راہوں پر سختی سے گامزن ہوا جائے۔دنیا کی کوئی طاقت یا دنیا کا کوئی ابتلاء اور امتحان انسان کو صراط مستقیم سے ہٹا نہ سکے۔غرض ہمارا رب رب العالمین ہے اگر ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارے رب نے ہمارے لئے جو صراط مستقیم معین کی ہے ہم اس پر چلتے ہیں تو ہمیں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ تمہیں وہ جنت دی جائے گی جس کا ذکر تفصیل سے قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اور جس کی تفسیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں تفصیل سے پائی جاتی ہے یا وہ تفسیر ہے جو آپ پر فدا ہونے والے بعض مقربین الہی نے کی ہے جو امت محمدیہ میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔پس ربنا الله ، ربنا اللہ کہنا بھی ضروری ہے اور اس رب کی قائم کردہ صراط مستقیم پر چلنا بھی ضروری ہے اس صورت میں پھر خدا تعالیٰ نے کہا ہے میں تمہیں اس دنیا میں بھی جنت دوں گا اور مرنے کے بعد تم ایک اور ابدی جنت کے وارث کئے جاؤ گے۔دوسری بات جو اختصار کے ساتھ میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ اور ہوتی ہے اور دنیا کے رستے اور ہوتے ہیں۔جو عزت انسان کو خدا سے ملتی ہے اس کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور جو عرب میں انسان آپس میں بانٹ لیتے ہیں یعنی دنیوی عرب تیں ، اُن کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے۔دنیا دار بسا اوقات دنیوی عزتوں کی بیچ میں خدا تعالیٰ کے تقویٰ کو اختیار کرنے سے رُک جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ