خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 293 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 293

خطبات ناصر جلد ششم ۲۹۳ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۷۶ء الْعِزَّةُ (البقرة: ۲۰۷) جب ایسے لوگوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تعلقات اور وہ عرب تھیں جو تم نے ایک دوسرے کو دے رکھی ہیں ان کی طرف نگاہ نہ رکھو۔اُن سے پیار نہ کرو، اُن سے اپنے دل کو نہ باندھو بلکہ خدا تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ، خدا تعالیٰ جو سب عرب توں کا سر چشمہ ہے اسی سے سب عرب تیں حاصل کرو تو دنیا کی عرب تیں اور دنیا کی عزتوں کی پیچ ایسے شخص کو گناہ کی طرف لے جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور لے جاتی ہے۔فرمایا :۔فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کے قہر کی آگ میں جلنا پڑے گا۔تیسری بات جس کی طرف میں جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ تو درست ہے کہ قرآن کریم نے ہمیں یہ تاکیدی حکم دیا ہے کہ خود کو خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر سے بچاؤ لیکن جو ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ان کے لئے بھی یہی حکم ہے اسی لئے فرمایا:۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحريم : ( البته قُوا أَنْفُسَكُم پر قرآن کریم نے زور دیا ہے جیسا کہ فرمایا:۔لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المآئدة : ١٠٦) اگر تمہارے ماں باپ، بیٹے اور بیٹیاں گمراہ ہوتی ہیں اور تم ہدایت پر قائم رہتے ہو تو ان کی گمراہی جو ان سے تعلق رکھتی ہے اس کا تمہیں ضرر نہیں پہنچے گا۔تم اپنی فکر کرو۔ہر شخص مرد ہو یا عورت اس کو خدا تعالیٰ کے غضب سے بچنے کے لئے اپنی ذات کی فکر کرنی چاہیے۔یہ ایک بنیادی حکم ہے جو ہمیں دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کا بھی حکم دیا گیا ہے یعنی نیکی کی باتوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور نیکی کے قیام کے لئے ایک دوسرے کا ممد و مددگار ہونا۔اس لئے ہمیں یہ کہا گیا ہے:۔يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السّلْمِ كَافَةً (البقرة : ۲۰۹) اسلام نے اس دنیا میں ایک حسین معاشرہ قائم کرنا چاہا ہے تم سارے کے سارے بغیر کسی استثناء کے اس میں داخل ہونے کی کوشش کرو۔تم ایک دوسرے کی مدد کر کے ایک دوسرے کا خیال رکھ کر اور اپنے ماحول کو نا پاکی ، گندگی اور گناہ سے بچا کر ایسے حالات پیدا کرو کہ کوئی شخص بھی اس معاشرہ سے باہر نہ رہے۔