خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 268

خطبات ناصر جلد ششم ۲۶۸ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء کے ربوہ پہنچ چکے ہیں۔بہت سے دوست ربوہ آنے کے لئے اور جلسہ میں شمولیت کے لئے آج ہوائی جہازوں میں سوار ہوں گے۔بہت سے لوگ جلسہ میں شمولیت کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔پھر جوں جوں ۲۶ / تاریخ قریب آتی جائے گی (یعنی تقاریر کے دن قریب آتے جائیں گے کیونکہ ۲۶ کو تقریروں کا جلسہ شروع ہوتا ہے ) ربوہ میں داخل ہونے والوں کی روزانہ کی حاضری بڑھتی چلی جائے گی اور میرا اندازہ ہے کہ آخری دن یعنی ۲۵ / تاریخ سے ۲۶ / تاریخ کی صبح تک کوئی ۲۵ - ۳۰ ہزار نفوس اس چھوٹے سے قصبہ میں داخل ہوتے ہیں۔وہ کسی دنیوی غرض یا دنیا کی تجارت کے لئے نہیں آتے لیکن وہ ایک ایسی تجارت کے لئے آتے ہیں جس سے بہتر کوئی تجارت ممکن نہیں ہے یعنی خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے کچھ باتیں سننے ، کچھ عزم کرنے اور کچھ ارادے پختہ کرنے کے لئے وہ یہاں آتے ہیں۔یہاں کے جو دوست ہیں یعنی اہل ربوہ جلسہ کے ایام میں ان کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور ان کے فرائض میں اضافہ ہو جاتا ہے وہ اپنے اخلاق اور اپنے میل ملاپ کے ایک نازک دور میں داخل ہوتے ہیں۔ان کو سال کے ہر دن ہی جماعت کے سامنے اور دنیا کے سامنے ایک نمونہ پیش کرنا چاہیے لیکن ان ایام میں جبکہ اجتماع ہو ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں بھی یہ ذکر ہے کہ اجتماع کے موقع پر ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں زبان پر ذمہ داری پڑتی ہے۔مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے ، ان کے لئے کھانا لانے ، ان کو کھانا پیش کرنے ، کھانا کھلانے ، ان کے برتن دھونے وغیرہ ان کاموں کے لئے چلنا پھرنا اور بہت ساری حرکت کرنی پڑتی ہے کام کے دوران اس کی طرف شاید کسی کی توجہ نہ ہوتی ہولیکن یہ بڑا کام ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان ایام میں ربوہ میں کئی لاکھ برتن تو ڈھلتے ہی ہوں گے یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے لیکن چونکہ خدا کے پیار کے حصول کے لئے جماعت کو اس کی عادت پڑ چکی ہے اس واسطے ان کی توجہ اس طرف نہیں ہوتی وہ اپنا کام کرتے چلے جاتے ہیں۔بہر حال بہت بڑی ذمہ داریاں آپڑتی ہیں ذمہ داریوں کی فضا بدل جاتی ہے، اخلاق کے اظہار کی فضا مختلف ہو جاتی ہے۔اس وقت پیار کے موقعے ہوتے ہیں ملنا ملانا، باتیں کرنی ، آنے والوں کا خیال رکھنا اور اپنا