خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 267

خطبات ناصر جلد ششم ۲۶۷ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء دعاؤں کے دن کبھی زیادہ اہمیت رکھنے والے ہوتے ہیں اور کبھی عام دن ہوتے ہیں لیکن ہمارے عام دن بھی دعاؤں کے بغیر اس رنگ میں نہیں گزر سکتے جس طرح کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم گزاریں۔دعاؤں کے جو خاص ایام ہیں وہ ایک تو رمضان کے ایام ہیں اور رمضان کے موقع پر جماعت کے علماء مقررین خطیب اور علاقوں کے امیر وغیرہ دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔یہ جماعت میں ایک روایت ہے ان دنوں قرآن کریم کا درس بھی ہوتا ہے۔پھر حج کے ایام ہیں اور وہ بڑی دعاؤں کے ایام ہیں اور پھر ہم پر جو ذمہ داریاں ہیں ان کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کئی اور خاص مواقع بھی بہم پہنچا دیئے ہیں۔چنانچہ ہمارے لئے دعاؤں کے ایک وہ ایام ہیں جو ہمارے لئے اچانک پیدا کئے جاتے ہیں۔جب ہمارا امتحان لیا جاتا ہے جب ہمارے لئے ابتلا کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں تب دراصل اللہ تعالیٰ ہمارے لئے انتہائی دعا کے سامان انتہائی اضطرار کے ساتھ دعا کے سامان اور انتہائی عاجزی کے ساتھ دعا کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے اور دعاؤں کے کچھ وہ ایام ہیں جو ہر سال ہی ایک چکر میں آتے رہتے ہیں ان میں سے ایک ہمارا جلسہ سالانہ ہے۔جلسہ سالانہ قریب آرہا ہے اللہ سب خیر رکھے تو انشاء اللہ آئندہ جمعہ جلسہ کے۔تقاریر کے جو تین دن ہیں ان میں آئے گا۔ویسے تو ہمارا جلسہ آٹھ دس دن پر پھیلا ہوا ہے لیکن تقریروں کے تین دن ہیں اور امسال ان میں سے پہلا دن جمعہ ہے اور وہ اگلا جمعہ ہے یعنی آج کے بعد کا خطبہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی منشا کے مطابق وہاں سامنے جو جلسہ گاہ بنے گی وہاں دیا جائے گا۔ساری دنیا کے احمدی جمع ہوں گے۔اس موقع پر ان کو کچھ باتیں سنائی جائیں گی جمعہ کے خطبہ میں بھی اور باقی ایام میں بھی۔میں بھی اور میرے دوست اور ساتھی بھی تقاریر کے ذریعے اور گفتگو کے ذریعے اپنی مجالس میں خدا اور رسول کی باتیں جماعت کے کانوں تک پہنچائیں گے۔ان ایام میں خاص طور پر دعاؤں کی ایک فضا پیدا ہو جاتی ہے لیکن اس سے قبل بھی ہمارے لئے خاص طور پر دعاؤں کے ایام ہیں۔بہت سے دوست جلسہ کے لئے چل پڑے ہیں بلکہ اس سے پہلے مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ بہت سے دوست جلسہ کی خاطر ہزار ہا میل کا سفر طے کر