خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 242

خطبات ناصر جلد ششم ۲۴۲ خطبہ جمعہ ۵؍دسمبر ۱۹۷۵ء مرجائے گا اور دوسرے وہ کلر آپ کے لئے صحت مند تر کاری مہیا کر دے گا۔پھر ایک دقت یہ ہے کہ زمین کا Structure ( سٹرکچر ) ایسا ہے کہ اس میں کلر کے علاوہ بھی اور بہت سے ایسے اجزا ہیں جو درختوں اور ترکاریوں کے لئے یا تو مفید نہیں یا وہ چیزیں اس میں طاقتور نہیں اگتیں۔اس کے لئے کھا دیں ہونی چاہئیں لیکن اگر آپ اپنے گند کو اپنے گھر کی مٹی میں ملا دیں تو آپ کو بڑا فائدہ ہوگا۔میں نے ایک مضمون پڑھا اس میں ایک ۷۸ سالہ بڑھیا کی تصویر تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ ربوہ کے ننانوے فیصد احباب ۷۸ سالہ بڑھیا سے ہر لحاظ سے زیادہ طاقتور ہیں۔اس بڑھیا کا کام یہ تھا کہ وہ صبح سویرے اٹھ کر لوگوں کے گھروں کے کوڑا کرکٹ اٹھا لاتی۔وہ ایک ایسے چھوٹے سے قصبے میں رہتی تھی کہ جہاں لوگ اپنے گھروں میں جھاڑو دے کر یا ویسے صفائی کر کے گند باہر ایک طرف پھینک دیتے تھے چنانچہ وہ اپنی Wheel Barrow ( وہیل بیرو ) یعنی دو پہیوں کی بوجھ اٹھانے والی ٹرالی لے کر باہر نکلتی اور اپنے سارے محلے کا جو گند باہر پھینکا ہوتا تھا وہ اٹھا لاتی اور اس کا ایک چھوٹا سا بیک گارڈن تھا ترکاریوں اور پھلوں کا ایک چھوٹا سا باغ تھا وہ اس میں لا کر ڈال دیتی تھی۔ہر روز اس کا یہی کام تھا اور اس تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ وہاں بڑی اچھی ترکاریاں اُگی ہوئی ہیں۔جتنی عقل اس عیسائن بڑھیا میں ہے اس سے کہیں زیادہ عقل ایک احمدی کے دماغ میں ہے لیکن ان کو یہ تعلیم دینی چاہیے کہ دیکھوا اپنی عقل سے فائدہ اٹھاؤ اور خدا تعالیٰ کے ناشکرے بندے نہ بنو اور اس طرح پر آپ کو بھی فائدہ ہوگا اور بوہ بھی صاف ہو جائے گا۔کچی سڑکوں کے اندر ضرور گڑھے پڑتے ہیں۔قادیان میں جب میں وہاں لمبا عرصہ خدام الاحمدیہ کا صدر رہا۔میرا مشاہدہ تھا وہاں بھی گڑھے پڑا کرتے تھے اور مجھے یقین ہے کہ یہاں بھی پڑتے ہوں گے۔اس کے لئے وقار عمل کے ذریعے گاہے گاہے اپنی کچی سڑکوں کو درست کرنا ضروری ہے۔پس ایک تو خدام الاحمدیہ کو چاہیے کہ ۲۰ / تاریخ سے پہلے پہلے اس قسم کا جو گند ہے کہ اوپر نیچے ٹھوکریں لگتی ہیں اور بچوں کو تکلیف ہوتی ہے، بڑوں کو تکلیف ہوتی ہے، رات کے وقت چلنے والوں کوٹھوکریں لگتی ہیں کیونکہ روشنی پوری نہیں ہے اس گند کو دور کر دیں اور لوگوں کو اس دکھ اور