خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 196
خطبات ناصر جلد ششم ۱۹۶ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء فائدہ؟ وہ اس لئے قبول کرے کہ احمدیت قبول کر کے دنیا میں اسلام کی اشاعت کا جو انتظام ہوا ہے اور ایک مہم جو جاری ہوئی ہے اور دنیا میں اشاعت اسلام کا ایک جہاد جو شروع ہو چکا ہے اس میں وہ شخص شامل ہو جاتا ہے اور احمدیت سے باہر حقیقی معنوں میں ایسا کوئی سامان نہیں ہے۔باقی دنیا دار پیسے بھی بڑے خرچ کرتے ہیں اور ہم قدر کرتے ہیں بڑی بڑی مساجد کی جو بنائی جاتی ہیں اور ہم قدر کرتے ہیں ان پیسوں کے مساجد پر خرچ ہونے کی اور ہم دعائیں کرتے ہیں کہ خدا وہ دن بھی لائے کہ جب یہ مساجد نمازیوں سے بھی بھر جائیں لیکن یہ سعی اور کوشش اور یہ جہاد کہ اسلام کے حسن اور احسان اور اس میں جو جذب پایا جاتا ہے اس کے ذریعہ سے غیر مسلموں کو کھینچنا یہ مہدی علیہ السلام کی مہم ہے اور یہ جہاد جو شروع ہو چکا ہے اس سے باہر کوئی اور جہاد ہمیں نظر نہیں آتا لیکن تاہم ہر کوشش جو اسلام کو پھیلانے کی ہے خواہ وہ باہر ہی ہو ہم اس کی قدر کریں گے ہم اس سے پیار کریں گے وہ ہماری طرف ہی لوگوں کو لانے والی ہے ان کو خواہ نظر آئے یا نہ آئے۔بہر حال تحریک جدید سے جو ایک چھوٹا سا کام شروع ہوا تھا اب وہ بہت پھیل گیا ہے اب اس کی شکل بدل گئی ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ۱۹۴۴ء تک ہمارے رجسٹروں میں ایک پیسہ بھی بیرون ہندوستان کے چندوں کا نہیں تھا اور اب سوائے ان بنیادی اخراجات کے جوان پر بہر حال مرکز میں ہوتے ہیں مثلاً لٹریچر کی اشاعت پر خرچ اور جامعہ احمدیہ میں مبلغ بنانے پر خرچ باقی جو ان کے روز مرہ کے اخراجات ہیں انہیں بیرون پاکستان کی ساری دنیا مل کر اجتماعی زندگی میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی ہے اور پاکستان کی ایک پیسے کی بھی محتاج نہیں رہی۔اتنا ز بر دست انقلاب آچکا ہے دنیا میں۔یہ معمولی بات نہیں ہے۔تم سوچو ۱۹۴۴ء میں یہ بیرون ہندوستان کی دنیا (اس وقت پاکستان نہیں بنا تھا) مرکز کی پیسے پیسے کی محتاج تھی۔ایک پیسہ بھی ہماری لسٹ میں ان کی آمد کا نظر نہیں آتا اور وہ جو اس وقت پیسے پیسے کی محتاج تھی آج ایک پیسے کی بھی محتاج نہیں ہے۔اتنا انقلاب عظیم آگیا ہے۔وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ بعض جگہ نئی تحریکیں شروع ہوئی ہیں اور وہ ایر یا وہ ملک وہ ریجن خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکتا تو پاکستان سے باہر کے دوسرے ممالک کہتے ہیں کہ ہم تمہاری مدد کو آتے ہیں اور اب تو میں نے