خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 195
خطبات ناصر جلد ششم ۱۹۵ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء فیصلہ کر لیا کر مثلا زکوۃ پر اس کے بعض اخراجات وغیرہ ہیں لیکن ان کی حد بندی بھی خود اسلام نے کر دی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی آواز، تلقین یا ندا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ اٹھتی اور بلند ہوتی ہے یہ آواز بالواسطہ آپ کے مخلصین ، آپ کے اطاعت گزار ، آپ کے عشق اور محبت میں فنا ہونے والوں کے ذریعہ سے اٹھتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس وقت اسلام کو اس بات کی ضرورت ہے اس کے لئے آگے آجاؤ۔اس زمانہ میں جو ساری دنیا میں ایک جال پھیلنا تھا تبلیغ اسلام کا ، اشاعت اسلام کا، اس حسین تعلیم کو دنیا کے سامنے رکھنے کا، اس پیاری تعلیم سے پڑھے لکھوں کو متعارف کرانے کا ،اس کے لئے ایک وقت میں جماعت احمدیہ کی تاریخ میں وہ وقت آیا کہ خدا کی طرف سے ہمیں باہر نکلنے کا حکم ہوا اور اس کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کو قائم کیا۔جیسا کہ ہراچھے درخت کی ابتدا بھی ایک چھوٹے سے نحیف اور کمزور پودے سے ہوتی ہے تحریک جدید کی ابتدا بھی اسی طرح ہوئی لیکن آج وہ ایک بہت بڑا درخت بن گیا ہے اور سارا سال ہی پھلوں سے لدا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس درخت میں اتنی برکت ڈالی ہے کہ اس کی شاخیں ایک طرف افریقہ کے صحراؤں میں پھیلی ہوئی ہیں اور دوسری طرف شمالی امریکہ کی گنجان اور تہذیب نو کی آبادیوں کے اندر پھیلی ہوئی ہیں اور وہاں چھوٹے چھوٹے جزیرے بن رہے ہیں جو ان نو تہذیب یافتہ لوگوں کو نئی تہذیب کے گند اور اس کی نحوست سے بچا کر اسلام کی حسین تعلیم کے اوپر قائم کر رہے ہیں۔ان جزیروں میں جو ہمارے احمدی رہ رہے ہیں ان کی زندگیاں بالکل مختلف ہیں۔پھر ایک طرف اس کی شاخیں جاپان میں چلی گئیں اور آسٹریلیا میں چلی گئیں ، جنوبی امریکہ میں چلی گئیں ، یورپ اور انگلستان میں اور اُس مڈل ایسٹ میں چلی گئیں جس کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاید وہاں بڑا تعصب پایا جاتا ہے اور ہمارے لئے اس کے دروازے کھلے نہیں ، وہاں بھی اگر چہ کثرت سے نہیں لیکن دروازے کھلے ہیں وہ لوگ بھی احمدی ہوتے ہیں۔قریباً ہر ملک ایسا ہے جہاں کے مقامی باشندوں نے احمدیت کو قبول کیا ہے اور احمدیت کو جب مسلمان قبول کرتا ہے تو بعض دفعہ کہتے ہیں کہ مسلمان احمدیت کو کیوں قبول کرے، اسے کیا