خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 197 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 197

خطبات ناصر جلد ششم ۱۹۷ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء پچھلے جمعہ میں بتایا تھا کہ ایک مسجد کی تعمیر کا قریباً سار اخرچ زیادہ تر انگلستان کی جماعتیں اٹھا ئیں گی لیکن اس کا کوئی ۱٫۵ امریکہ کی جماعتیں اور ۵ فیصد کے قریب سکنڈے نیویا کی جماعتیں اس مسجد پر خرچ کریں گی اس کے لئے ہمیں انہوں نے ثواب سے محروم کر دیا ہے یا یوں کہیں کہ ہمارے حالات نے ہمیں محروم کر دیا ہے۔دعا کریں کہ حالات بدل جائیں اور درست ہو جائیں اور پھر جو اگلا منصوبہ ذہن میں آیا ہے یعنی اوسلو (ناروے) کی مسجد کا اس کی تعمیر کی ساری کی ساری ذمہ داری جماعتِ احمد یہ انگلستان پر ہے۔میں نے بتایا تھا کہ انگلستان کی جماعت کے وعدوں کے دو حصے ہیں ان کا حساب الگ الگ ہے۔جو دوسرا حصہ ہے ان کی جو پہلی رقم ملنی ہے وہ ساری اوسلو کی مسجد پر خرچ کر رہے ہیں کسی اور ملک کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔کہتے ہیں تمہارے پاس پیسہ کہاں سے آ گیا ہے؟ ہماری دولت پٹرول کے چشمے نہیں ہیں ہماری دولت بڑے بڑے کارخانے نہیں ہیں۔جماعت احمدیہ کی دولت وہ مخلص دل ہیں جو منور سینوں کے اندر دھڑک رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے والے ہیں۔اس وقت بھی بیرونی ممالک میں وہ لوگ بھی ہیں جو شاید سارا سال بمشکل دو روپے دیتے ہوں گے یا پانچ روپے دیتے ہوں گے۔اتنے غریب لوگ بھی ہیں لیکن پانچ روپے دے کر وہ اس سے قربانی دے رہے ہیں جو ایک ملینیئر (Millionair) لاکھوں روپے دے کر کیونکہ پانچ روپے دینے سے ان کو خدا کی راہ میں بھوک کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے ان کو کچھ ایسے کھانے کھانے پڑتے ہیں جو ان کے روز مرہ سے کم ہوتے ہیں اور اس اخلاص کے ساتھ جو قربانیاں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کی جاتی ہیں ہم دعا بھی کرتے ہیں ( میں بھی اور ساری جماعت بھی ) اور ہم اپنے رب کریم سے امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ قربانیاں قبول ہوں گی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نتیجہ نکلا کرتا ہے خدا کی نگاہ دولت کے انبار دیکھ کر وہ نتائج نہیں نکالتی اس لئے کہ وہ دولت کے انبار کا محتاج نہیں ہے وہ تو غنی ہے وہ تو صد ہے اس کو تو اموال کی ضرورت نہیں وہ تو مالک کل ہے، ہر چیز اس نے پیدا کی اور وہ اس کا مالک ہے۔وہ تو جب ثواب کے رنگ میں نتیجہ نکالتا ہے تو وہ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (الحج: ۳۸) دلوں کے تقویٰ کو دیکھا کرتا ہے۔وہ تو یہ دیکھتا