خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 194
خطبات ناصر جلد ششم ۱۹۴ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء ایسا ہی نظر آئے گا۔پس جس وقت انسان کو بھوک کی تکلیف کا اندیشہ پیدا ہوا تو سب کو برابر کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر تکلیف اٹھائیں گے تو ہم سب اٹھا ئیں گے اور خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ اس تھوڑے میں برکت ڈالی اور ان کی سیری کے سامان پیدا کئے۔میرے علم میں نہیں ہے کہ صحابہ نے کہیں یہ بھی ذکر کیا ہو کہ اس کے باوجود ہمیں بھوک کی بہت تکلیف اٹھانی پڑی کیونکہ اصل میں غذا کی مقدار نہیں بلکہ اس مقدار کا انسان کے اندر سیری کا احساس پیدا کرنا اصل چیز ہے۔مختلف آدمی مختلف مقدار میں غذا ئیں کھاتے ہیں کسی کو ایک چھٹانک آٹا سیر کر دیتا ہے اور اس کے اندر سیری کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور کسی کو آدھ سیر آٹا بھی سیر نہیں کرتا۔ایسے لوگ بھی میرے علم میں ہیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور انسان کے جسم کی ضروریات کو تھوڑے میں پورا کر دے تو وہ اس پر قادر ہے اور اپنے بندوں سے وہ کبھی اس طرح بھی پیار کرتا ہے کہ تھوڑے میں اتنی برکت ڈالتا ہے کہ انسان کے جسم کی ضرورتیں اس کے پیارے بندوں کے جسم کی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔اس زمانہ میں زندگی کے وقف کے لئے اعلان ہوتا ہے اپنے اموال کے خرچ کرنے کے لئے اعلان ہوتا ہے۔اُس طرح میدان جنگ کا اعلان نہیں ہوتا کیونکہ اس اعتراض کو دور کر نے کے لئے تو یہ زمانہ آیا ہے اور اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے تو مہدی معہود علیہ السلام مبعوث ہوئے ہیں اور اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے تو ہمیں مہدی معہود سے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہت سی پیشگوئیاں نظر آتی ہیں۔اس پیار سے اسلام کو پھیلانے کے لئے آج کی دنیا میں اموال کی ضرورت ہے۔پہلے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ندالی کیونکہ اصل ندا تو آپ ہی کی ہے باقی تو ساری ندائیں طفیلی ہیں اور اب میں نے مہدی کے زمانے کی ندا لے لی۔بیچ کا سارا زمانہ ایسا ہے جس میں خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب اور برگزیدہ بندے خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے اپنے گرد جمع ہونے والے مخلصین سے مالی قربانیاں بھی لیتے رہے ہیں۔پس ہر انسان کو یہ نہیں کہا کہ تو خود فیصلہ کر کہ تو نے خدا کو خوش کرنے کے لئے کہاں اور کس طرح دینا ہے۔بعض حالات میں چھوٹی چھوٹی ایسی قربانیاں ہیں جن کے متعلق اس کو کہا کہ تو آپ