خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 187
خطبات ناصر جلد ششم I^2 خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء اُن لوگوں کے ایمان کا یہ حال ہے آپ ذرا سوچ لیں وہ آپ سے آگے نکل رہے ہیں۔ایک یوگوسلا و جو بڑا مخلص احمدی ہے جس کی بیوی بضد تھی کہ مجھے احمدی کرو اور وہ کہتا تھا کہ میں نہیں کرتا تھا اس لئے کہ تمہیں قرآن پڑھنا نہیں آتا تم کس قسم کی احمدی بندگی میں تمہیں احمدی نہیں کر سکتا۔میں نے اس کو پھر سمجھایا کہ تمہاری بیوی احمدی ہو جائے گی تو بعد میں اس کو قرآن سکھانا۔چنانچہ اس کو وہ یہی کہتا تھا کہ تم قرآن نہیں جانتی اگر تم احمدی ہو گئی تو احمدیت کی بدنامی ہوگی۔کیا میں اپنی ایسی بیوی کو احمدی کر لوں جس کو قرآن بھی نہیں آتا؟ چنانچہ ۲۷۔۲۸ ستمبر کو بیعت کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھی۔میں نے اس کے خاوند سے کہا تم اس کو با قاعدہ قرآن کریم پڑھاؤ۔غرض وہ لوگ دین کے مسائل بڑی اچھی طرح سمجھنے لگے ہیں۔اس سے پہلے اُن کو کچھ بھی نہیں آتا تھا نام کا اسلام تو کوئی چیز نہیں ہے۔قرآن کریم نے ایک مسلمان سے جو مطالبات کئے ہیں، ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ہر وہ شخص جس کے دل میں یہ خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ مسلمان ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان سے جو مطالبات کئے ہیں ، وہ اُن کو پورا کرے اگر وہ قرآن کریم کی شریعت کے مطالبات پورے نہ کرے اور سمجھے کہ پھر بھی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ مسلمان سمجھا جائے گا اور خدا تعالیٰ کی وہ رحمتیں اور وہ برکتیں جو مومن مخلص مسلمان سے وابستہ ہیں وہ اس کو مل جائیں گی تو یہ ایک خوش فہمی ہے۔نہ کبھی پہلے ایسا ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی ہو گا اسی لئے قرآن کریم نے ہمیں دعا ئیں سکھائی ہیں اور کہا ہے کہ اپنے لئے دعائیں کرو، اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرو، اپنی نسلوں کے لئے دعائیں کرو، اپنے ماحول کے لئے، دنیا کے لئے اور اُمت محمدیہ کے لئے دعائیں کرو۔بڑی اہم دعا مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کو سکھائی گئی ہے کہ اُمت محمدیہ کے لئے بحیثیت مجموعی دعائیں کرو یعنی صرف اپنے ملک کے مسلمانوں کے لئے نہیں مثلاً انگلستان کے احمدی صرف انگلستان کے مسلمانوں کے لئے یا سویڈن کے احمدی صرف سویڈن کے مسلمانوں کے لئے دعائیں نہ کریں بلکہ اُمت مسلمہ کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے۔پس سب مسلمانوں کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں جب تک ہم خدا تعالیٰ کی ساری ہی رحمت کو جذب کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ، اُس وقت تک