خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 134
خطبات ناصر جلد ششم ۱۳۴ خطبه جمعه ۱۵ راگست ۱۹۷۵ ء لوگ متقی ہونے کے باعث خدا تعالی کی پناہ میں ہوتے ہیں۔(۲) ایسے لوگ جو کچھ چاہیں گے انہیں وہ سب کچھ اپنے رب کی جناب سے ملے گا اور وہ چاہیں گے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے برے پہلوؤں کو ڈھانک دے اور ان کا بدلہ بھی ان کے اعمال میں سے جو سب سے اچھے اعمال ہوں ان کے مطابق انہیں دے چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے سے چھوٹے اچھے عمل کی جزا بھی ان کے سب سے بڑے اور سب سے اچھے عمل کی جزا کے مطابق دے گا۔(۳) ظاہر ہے ایسا رحمن و رحیم اور ارحم الراحمین خدا جو سب دینے والوں سے بڑھ کر دینے والا ہے اپنے بندوں کے لئے کافی ہے۔اسلئے انہیں ہر طرف سے منہ موڑ کر اسی پر توکل کرنا چاہئے اور صحیح معنوں میں اُسی کا ہوکر رہنا چاہیے۔(۴) باقی رہے خدا تعالیٰ کے علاوہ دوسرے وجود جن سے بالعموم ڈرایا اور جن کا خوف دلایا جاتا ہے ان کا حلقہ اقتدار بہت محدود اور عارضی ہے۔ان سے کوئی توقع رکھنا اور ان پر بھروسہ کرنا محض بے کار ہے ، خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں انہیں کوئی قدرت اور طاقت حاصل نہیں ہے تھوڑا بہت اقتدار رکھنے کے باوجود وہ خود محتاج ہیں، وہ کسی کو کیا دے سکتے اور کسی کی کیا مدد کر سکتے ہیں، اجر بے حساب کا دینے والا صرف خدا ہے جو ہر شے کا خالق و مالک اور قادر مطلق ہے۔(۵) جس کو اللہ تعالی گمراہ قرار دے دنیا کی کوئی طاقت یا فتویٰ اسے ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتا۔اسی طرح جو خدا کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہے دنیا کی کوئی طاقت یا کوئی فتویٰ اسے ہدایت سے محروم نہیں کر سکتا اور نہ دنیا کی کوئی طاقت یا فتویٰ ایسے ہدایت یافتہ کو افضال و انعامات کا وارث بنانے سے خدا تعالیٰ کو باز رکھ سکتا ہے۔دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو اس بات سے روک دے کہ وہ اپنے ہدایت یافتہ بندوں سے پیار نہ کرے اور انہیں اپنے افضال وانعامات کا مورد نہ بنائے۔(1) اللہ تعالیٰ غالب ہے اور بدلہ لینے پر قادر ہے۔اس لئے وہ اپنے ہدایت یافتہ حقیقی بندوں کو اپنی تائید و نصرت کا مورد بنا کر ان کے ذریعہ حق کو غلبہ عطا کرتا ہے۔برخلاف اس کے وہ