خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 135

خطبات ناصر جلد ششم اله خطبه جمعه ۱۵ /اگست ۱۹۷۵ء اطاعت سے نکلنے والوں، نافرمانوں اور ظلم کو اپنا شیوہ بنانے والوں پر اپنا قہر نازل کرتا ہے۔غلبہ حق سے متعلق ان امور کو بعض نہایت لطیف اور عام فہم مثالوں سے واضح فرمانے کے بعد حضور نے بتایا کہ ان آیات میں جس سچی تعلیم اور اس کو لانے والے وجو د باجود کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سے مراد قرآن مجید کی سچی اور تا ابد قائم رہنے والی ہر لحاظ سے کامل ومکمل تعلیم ہے اور ظاہر ہے کہ اس کو لانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور جہاں تک اس کامل و مکمل اور تا قیامت قائم و دائم رہنے والی تعلیم کی تصدیق کا تعلق ہے تو اس سے مراد محض زبانی تصدیق ہی نہیں ہے بلکہ عربی لغت اور قرآنی محاورہ کی رُو سے تصدیق کے معنے اس تعلیم پر صدق دل سے مخلصانہ عمل کرنے کے بھی ہیں۔اس میں زبانی تصدیق اور عملی تصدیق دونوں شامل ہیں۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری زمانہ میں احیاء وغلبہ اسلام کی غرض سے مہدی علیہ السلام کے مبعوث ہونے کی بشارت دی تو اس میں آپ نے یہی بتایا تھا کہ آنے والا مہدی قرآنی تعلیم کی دلائل و براہین کے ذریعہ زبان سے ہی تصدیق نہیں کرے گا بلکہ اپنے عمل اور اس عمل کے نتیجہ کے طور پر معرض وجود میں آنے والے اپنے رفیع الشان مقام کے ذریعہ بھی اس کی صداقت کو دنیا پر آشکار کر دکھائے گا۔اس موقع پر حضور ایدہ اللہ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض پر معارف تحریرات پڑھ کر سنائیں اور اس طرح ثابت فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک طرف تو قرآنی تعلیم کی صداقت اور اس کی لازوال عظمت وفضیلت کو نہایت محکم دلائل کے ساتھ دنیا پر آشکار فرما یا اور دوسری طرف اس بے مثال ولا زوال تعلیم کی عملی تصدیق کے طور پر دنیا کے سامنے اپنے وجود کو پیش کیا کیونکہ آپ قرآن مجید کی تعلیم پر کما حقہ عمل پیرا ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل پیروی اور اتباع میں اپنے اوپر فنا وارد کرنے کے نتیجہ میں ہی تعلق باللہ کے نہایت بلند مقام پر فائز کئے گئے تھے اور اس طرح آپ کے وجود نے اسلام کی صداقت و حقانیت کے زندہ اور درخشندہ و تابندہ ثبوت کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔آخر میں حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے