خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 76
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۶ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۳ء چھوٹا تھا۔شاید اسی لئے ان کی مہمات دینیہ یعنی جہاد اور اشاعت اسلام اور احیائے سنت کے لئے ان کی جو کوششیں تھیں اُن میں اس چھوٹے بیٹے کا نام نہیں لیکن جب بعد میں وہ بڑے ہوئے تو ایک تہائی حصہ ان کے تصرف میں آیا۔چنانچہ اس چھوٹے بیٹے کے علاقہ کا ایک حصہ کا نو کے صوبہ میں شامل ہے جس میں اس کی نسل آباد ہے اس وقت بھی اُن کا مذہبی اثر ورسوخ بہت ہے۔حضرت عثمان فودیؒ کے جو بیٹے خلیفہ بنے تھے۔یعنی محمد بن عثمان اُن کا جو علاقہ اور صوبہ ہے اس کو سکو تو کہتے ہیں۔ان کی نسل کے دینی رہنما سلطان آف سکو تو کہلاتے ہیں اور کانو والے امیر آف کا نو کہلاتے ہیں۔سکو تو کا صوبہ ہم سے دُور دُور رہتا تھا۔اب دیکھیں خدا تعالیٰ کی شان وہ کتنا فضل کرنے والا ہے۔میں مصلیا کسی کا نام نہیں لوں گا اور نہ اُن کے عہدے بتاؤں گا تا ہم آپ سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ہماری کوتاہیوں کے باوجود احمدیت کی اشاعت کے وہاں سامان پیدا کئے۔ایک تو اس طرح کہ سکو تو کے جو باشندے تجارت یا دوسرے کاموں کے سلسلہ میں نائیجیریا کے دوسرے حصوں میں یا غیر ممالک کو چلے گئے تھے اُن میں سے بہت سے خاندان اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہو گئے پھر اُن میں سے بہت سارے خاندان اپنے وطن واپس آگئے اور کچھ اس طرح کہ سکو تو کے بعض بچے ایسے سکولوں میں پڑھے جہاں احمدی کام کر رہے تھے یا سکول کے علاوہ ہمارے احمدی دوستوں سے انہوں نے تعلیم حاصل کی اور وہ بچپن میں احمدی ہو گئے۔چنانچہ اب جب کہ یکدم تبلیغ کا دروازہ کھلا تو پتہ لگا کہ یہاں تو پہلے سے احمدی موجود ہیں۔پہلے تو اس علاقہ میں کسی احمدی مبلغ کے لئے شاید تقریر کرنا بھی مشکل ہوتا ہوگا لیکن اب حالات بدل گئے اور یہ حالات اس طرح بدلے اور ہماری تبلیغ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس طرح دروازہ کھولا کہ جب میں ۱۹۷۰ء کے مغربی افریقہ کے دورہ میں نائیجیریا میں تھا تو ایک دن ریڈیو پر یہ خبر آئی کہ سکو تو کے گورنر فاروق کا بینہ کے اجلاس میں شمولیت کے لئے ( آٹھ نو سو میل دورا اپنی سٹیٹ سے) آئے ہیں۔ہوائی اڈہ پر صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکو تو کی ریاست تعلیم میں بہت پیچھے ہے اس لئے انہوں نے تعلیمی محاذ پر اپنی ریاست میں ہنگامی حالات