خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 75
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۳ء نائیجیریا کا یہ شمالی حصہ عیسائیت کی مخالفت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے پرانے خیالات کی وجہ سے احمدیت کی تبلیغ پر اپنے دروازے بند رکھتا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کا تو میں ایک کلینک (اب تو وہ بڑی اچھی عمارت والا ہسپتال بن گیا ہے) گھلوایا۔کا تو نائیجیریا کا ایک صوبہ (سٹیٹ) ہے اور شمال میں واقع ہے۔حضرت عثمان فودی" جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلی صدی میں نائیجیریا کے مجدد تھے اسی شمالی علاقے کے رہنے والے تھے۔ہر صدی میں بہت سے مجدد ہوتے رہے ہیں یہ بھی اُن میں سے ایک تھے۔اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اُس وقت کے اپنے پیارے بندوں کو بشارت دی تھی ان کی پیدائش کے وقت یا اس سے بھی پہلے کہ وہاں ایک مجد د پیدا ہونے والا ہے چنانچہ جب انہوں نے تجدید دین کا کام شروع کیا تو اُن پر کفر کا فتویٰ بھی لگا۔وہ واجب القتل بھی قرار دیئے گئے۔ان کے خلاف عملاً میان سے تلوار بھی نکالی گئی لیکن چونکہ وہ خدا کے پیارے تھے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنی طاقتوں کے تار ہلائے اور اُن کو مخالفوں کے ہر شر سے محفوظ رکھا۔وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوئے۔نائیجیریا میں بھی اور اس کے ساتھ کے دوسرے ملکوں میں بھی اُن کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ان کی وفات کے وقت اُن کے ایک بھائی تھے جو بہت بڑے بزرگ عالم تھے اور بعض بڑی اچھی عربی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔بڑی اچھی عربی لکھنے والے تھے۔میں نے خود ان کی بعض کتابیں پڑھی ہیں کچھ تو نایاب تھیں حال ہی میں ان کی دوبارہ اشاعت ہوئی ہے۔جن میں سے کچھ ہمیں بھی ملی ہیں بعض کی تلاش ہورہی ہے۔غرض وہ بڑے سمجھدار، دینی تفقہ اور روحانی فراست رکھنے والے بزرگ تھے۔حضرت عثمان فودی کے ایک لڑکے تھے جن کا نام محمد بن عثمان تھا یہ بھی بڑے عالم اور متقی انسان تھے۔حضرت عثمان فودیؒ نے اپنی وفات سے قبل وہ علاقہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن کے ہاتھ پر غلبہ اسلام کے لئے فتح ہوا تھا۔اُس وقت کے جغرافیہ کے لحاظ سے اسے تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا (بعد میں بعض جغرافیائی تبدیلیاں بھی ہوتی رہی ہیں) ایک حصہ سیاسی لحاظ سے اپنے بھائی کو دیا اور ایک حصہ اپنے بیٹے محمد بن عثمان کو دیا تھا۔یہ ان کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ بھی بنے اور امیر المومنین کے لقب سے معروف ہوئے۔حضرت عثمان فودگی کا ایک اور بیٹا بھی تھا جو ان کی وفات کے وقت