خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 77

خطبات ناصر جلد پنجم LL خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۳ء کا اعلان کر دیا ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ہمیں تو سفر میں بڑی مصروفیت رہتی تھی۔اس لئے کبھی ریڈیو کی خبریں سنتے تھے اور کبھی نہیں سنتے تھے لیکن خدا نے یہ خبر سنانی تھی اس لئے اتفاقاً یہ خبر سُن لی۔میں نے صبح سویرے ایک افریقن احمدی بھائی کو ان کے پاس بھیجا کہ میری طرف سے اُن سے کہو کہ اس طرح ریڈیو پر ہم نے یہ خبر سنی ہے کہ آپ نے اپنے صوبہ میں تعلیمی محاذ پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے۔میں آپ کے صوبہ میں چارسکول کھولنے کی پیشکش کرتا ہوں دولڑکیوں اور دولڑکوں کے لئے۔آپ ہم سے تعاون کریں تو انشاء اللہ جلدی کھل جائیں گے اور ہم دو باتوں میں تعاون چاہتے ہیں ایک یہ کہ آپ ہمیں سکولوں کے لئے زمین دیں کیونکہ ہم پاکستان سے زمین نہیں لا سکتے دوسرے یہ کہ ہمارے اساتذہ کے ٹھہرنے کا اجازت نامہ دیں اس کے بغیر وہ ٹھہر نہیں سکتے۔چنانچہ وہ اس پیشکش کوٹن کر بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ میں پورا تعاون کروں گا۔بعد میں انہوں نے ہمارے ساتھ واقعی تعاون بھی کیا۔دو سکولوں کے لئے قریباً چالیس چالیس ایکٹر زمین دی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے دوسکول وہاں کھل چکے ہیں۔جن میں ابتدائی کلاسیں شروع ہو چکی ہیں۔آہستہ آہستہ ترقی ہوگی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے یہ ۱۹۷۰ء کی بات ہے ابھی پونے تین سال ہی ہوئے ہیں کہ پچھلے سال وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ سارے سکول قومی ملکیت میں لے لئے جائیں اور ان کا معاوضہ ادا کیا جائے اور اگر باہر کے اساتذہ رہنا چاہیں تو ان کو رکھ لیا جائے نیز یہ کہ ہر ریاست اپنے اپنے حالات کے مطابق اس سکیم پر عمل کرے۔چنانچہ سکو تو نے سب سے پہلے سکولوں کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا۔جہاں تک ہمارے سکولوں کا تعلق ہے گو ان کے لئے زمین تو انہوں نے ہی دی تھی لیکن اس پر عمارتیں ہم نے بنائی تھیں قریباً چار چار لاکھ روپیہ اُن پر خرچ آیا تھا۔ہم نے خرچ کیا کیا ؟ خدا نے دیا تھا۔وہیں خرچ کر دیا اللہ کے نام کی سربلندی کے لئے جب مجھے اطلاع ملی کہ حکومت نے ہمارے سکول قومی ملکیت میں لے لئے ہیں تو میں نے کہا بڑا اچھا کیا۔انہوں نے ان کو قومی ملکیت بنالیا ہے۔ہم تو ان کی خدمت کے لئے گئے تھے۔وہ قومی ملکیت میں لینا چاہتے ہیں تو