خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 650 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 650

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء ان کو حکم تھا کہ اذان سے پہلے یعنی پو پھوٹنے سے قبل واپس آؤ۔کیونکہ وہ وادی کافی لمبی چوڑی تھی کہیں آدھا میں کہیں ڈیڑھ میل ، بہر حال چونکہ جس وادی میں سے گذرتے ہوئے دشمن کی دُور بینیں دیکھیں گی تو ان کی تو ہیں چلنے لگ جائیں گی۔اس واسطے حکم یہ تھا کہ بلا وجہ جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا روشنی ہونے سے پہلے واپس آ جاؤ۔ایک صبح ہوئی اور احمدی رضا کا روا پس نہ آسکے پو پھوٹی اور سورج نکل آیا۔اور وہ واپس نہ پہنچے تو وہاں جو فوج کے جو مقرر کردہ نگران تھے (ان میں سے بعض احمدی بھی تھے ) انہوں نے کہا کہ دنیا کے حیلے جاتے رہے اب اللہ تعالیٰ کے در کو کھٹکھٹانا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے اس محاذ کے سب رضا کاروں کو دعا پر لگا دیا اور پھر جب روشنی زیادہ پھیلی تو ہمارے رضا کاروں نے دیکھا کہ رات کو چند نو جوان جوگشت کے لئے گئے ہیں وہ دشمن کی پہاڑی کے دامن میں ہیں اور ساری وادی انہوں نے عبور کر کے واپس آنا ہے۔بڑا خطرہ تھا۔خیر انسان تو دعا کر سکتا ہے مادی ذرائع میں قدرت متصرفہ ، جوٹل نہیں سکتی ، اس میں تو تبدیلی انسان نہیں کر سکتا یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔تدبیر انسان کر سکتا ہے مگر ایسی تدبیر جس کی ناکامی کا کوئی امکان ہی نہ ہو یہ انسان نہیں کر سکتا۔جب تک خدا تعالیٰ کا پیار بیچ میں شامل نہ ہو جائے انسان کے بس کی بات نہیں اور بہترین تدبیر دعا ہے پس وہ ساری جماعت دعا میں لگ گئی۔ان میں پانچ سات سو آدمیوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دیکھا کہ مطلع بالکل صاف تھا اور بادل کی چھوٹی سی ٹکڑی بھی آسمان پر نظر نہیں آرہی تھی۔کہ یکدم وادی میں ایک طرف سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا بادل کا نمودار ہوا جس کا سایہ شاید پانچ سات سو گز پر پڑتا ہو۔تیزی سے ہوا آئی اور ہوا میں تیزی سے تیرتا ہوا بادل کا وہ ٹکڑا آیا اور عین ان کے سروں پر جب وہ ٹکڑا پہنچا تو ہوا بند ہو جانے کی وجہ سے وہاں رک گیا۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اس مادی بادل کے سایے میں رضا کا راس وادی کو عبور کر کے اپنی (Lines) لائنز میں محفوظ جگہ پر آگئے اور جس وقت یہ رضا کار محفوظ جگہ پر پہنچ گئے اسی وقت ہوا پھر چلی اور بادل کے اس ٹکڑے کو اڑا کر ان لوگوں کی نظروں سے بھی اوجھل کر دیا اور وہ کہتے ہیں کہ پھر شام تک ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا آسمان پر نظر نہیں آیا۔پس اللہ کی رحمت کے یہ نظارے بھی انسان دیکھتا ہے لیکن ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کے اس پیار کی حیثیت دنیاوی