خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 651 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 651

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۵۱ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء نسبت سے تو ایسی ہے کہ اس کی قیمت کوئی نہیں چکا سکتا۔یہ دنیا خدا تعالیٰ کے اس پیار کی قیمت کیونکر چکا سکتی ہے۔لیکن جو روحانی لذت اور سرور اور پیار خدا تعالیٰ کے پیاروں کو ملتا ہے۔اس دوسرے الہی پیار کی نسبت سے وہ پیار جو روحانی ہے وہ بہر حال اعلیٰ اور افضل ہے لیکن مادی لحاظ سے مادی دنیا میں بسنے والے انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مادی جلو ے بھی دکھاتا ہے تو اس کی یہ رحمت تلاش کرو اور توہمات میں نہ پڑو اور جیسا کہ میں نے بتایا حکومت اور شرفائے ملک کے مشورے اور تعاون کے ساتھ یہ کوشش جہاں چھوٹے پیمانہ پر شروع ہوئی ہے بڑے پیمانہ پر شروع ہو جانی چاہیے تا کہ ایک طرف جو گھروں سے بے گھر ہو کر ایک تکلیف اور بے اطمینانی کی زندگی گذارنے والے خاندان ہیں وہ واپس اپنے گھروں میں جائیں اور سکون کی زندگی اللہ تعالیٰ ان کے مقدر میں رکھے اور دوسرے یہ کہ بہر حال حکومت کا جو فرض ہے جتنی جلدی وہ اس فرض کو بجالاتی ہے اتنا ہی وہ ہمارے ملک کے لئے بہتر ہے۔پس اس میں حکومت کا بھی فائدہ ہے اور آپ کا بھی فائدہ ہے آپ کا فائدہ دنیوی بھی ہے اور دینی بھی ہے اور آپ اگر اس طرح کریں جو میں آپ کو بتا رہا ہوں تو آپ کو خدا تعالیٰ کے پیار کے مادی جلوے دیکھنے بھی نصیب ہوں گے اور روحانی لذتیں بھی آپ کے مقدر میں ہوں گی تو انشاء اللہ آہستہ آہستہ اس کا انتظام ہو جائے گا۔پھر اپنے گھروں میں جائیں اور دلیری سے جائیں۔دلیری کا مطلب یہ ہے کہ جو قانون شکنی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرتا ہے وہ دلیر ہوتا ہے کیونکہ جو بھی اسے تکلیف پہنچانے والا ہے اس کے عمل میں قانون شکنی کے ہر دو پہلو ہیں ایک یہ کہ وہ قانونِ وقت کو توڑنے والا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہے۔ہم تو قانون کے پابند ہیں اور کئی دوست آکر یہ خیالی مثال دیتے ہیں کہ اگر کہیں دنیا میں قانون نہ رہے تو پھر ؟ اگر کے ساتھ ” نہ رہے اوّل تو آج کی دنیا میں ممکن نہیں آج سے پہلے تاریخ میں جو اندھیروں کے زمانے کہلاتے ہیں ان میں ایسے حالات تھے لیکن فرض کر وایسا ہو جاتا ہے کہ قانون نہ رہے اگر دنیا کا کوئی ایسا پسماندہ خطہ اور اس کرہ ارض کا اندھیروں میں مبتلا علاقہ بھی ہے اور وہاں کوئی قانون نہیں رہتا تو پھر یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نہ یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے کہ قانون کوئی نہیں تو ہم قانون کی پابندی کریں