خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 649 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 649

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۹ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء اور شرافت نفس پاکستانی شہری نے جو اچھے حالات پیدا کرنے شروع کر دیئے ہیں اس کے مطابق وہ اپنے گھروں میں واپس جائیں۔اور اگر تھوڑی بہت وہاں کوئی تکلیف برداشت کرنی پڑے بھی تو اللہ کی خاطر اسے برداشت کریں۔مثلاً بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں زبان سے اذکی دی جاتی ہے ان کو میں سمجھا یا کرتا ہوں کہ جب خدا نے تمہیں کہا کہ تمہیں آدمی ( تکلیف دہ بات ) سننی پڑے گی اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ( میں وعدہ “ اس لئے کہتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں بڑی بشارتیں ہیں ) خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوگا تا تمہیں روحانی ترقیات نصیب ہوں تو تمہارے دل میں کدورت کیوں پیدا ہو؟ یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ہے۔آخر تھک جاتی ہے وہ زبان جو خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف بولتی ہے اور وہ زبان جو صداقت کے لئے اور حق کے لئے آواز بلند کر رہی ہوتی ہے وہ ہر حالت میں حق و صداقت کی آواز بلند کرتی رہتی ہے اور کبھی بھی تھکا نہیں کرتی۔جیسے آدم سے لے کر آج تک نسل کے بعد نسل پیدا ہوتی رہی ہے جس کی زبانیں قول حق کہنے میں تھکی نہیں۔اور نہ رکی ہیں۔ٹھیک ہے آدمی سنو۔دکھ وہ باتیں سنی پڑتی ہیں۔یہ عارضی چیزیں ہیں لیکن تمہارے رب کی وہ پیاری آواز جو تمہارے کانوں میں پڑ رہی ہے وہ عارضی نہیں۔اس نے یہ وعد کیا ہے کہ میرے دامن کو تم نہ چھوڑنا اور میری رحمت کا سایہ تمہیں دکھ اور سختی کی تپش میں نہیں رہنے دے گا اس کی رحمت کے بادل تم پر آئیں گے اور وہ تمہارے سکون اور اطمینانِ قلب کے سامان پیدا کرے گا۔روحانی معنی میں اس رحمت کے بادل نے اُمت محمدیہ کے اربوں افراد کو جب انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں وفادکھائی اور ثبات قدم دکھایا سکون اور طمانیت قلب کا سامان پیدا کیا۔پہلے دن سے لے کر آج تک ہم یہ بھی دیکھتے چلے آئے ہیں۔اور یہ بھی دیکھتے چلے آئے ہیں کہ دنیاوی لحاظ سے بھی مادی دنیا میں مادی بادلوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مظاہرہ ہماری آنکھوں کے سامنے مادی شکل میں بھی کیا۔ایک دفعہ اپنے ملک کے دفاع اور اس کی عزت کے قیام کے لئے احمدی رضا کار ایک محاذ پر ملک کا دفاع کر رہے تھے۔اور وہاں ہر رات کو احمدی نوجوان No Man Land میں یعنی جو دشمن کی اور اپنی Lines جہاں انہوں نے اپنی خندقیں کھودی ہوئی تھیں ان کے درمیان کچھ فاصلہ ہوتا ہے اس میں وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اتر تے تھے