خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 591 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 591

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹۱ خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۷۴ء صورت میں تو کوئی انسان اس صفت کی نقل نہیں کر سکتا کیونکہ انسان اپنی تمام کمزوریوں کے ساتھ آخر انسان ہے لیکن وہ اس معنی میں خدا تعالیٰ کی اس صفت کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔دوسروں پر اس کے جو حقوق ہوتے ہیں ، وہ اُن سے پورے حقوق نہیں لیتا یعنی جن حقوق کی اُسے احتیاج ہے اور وہ دوسروں پر واجب ہیں اور ضرورت ہے کہ اس کے جو حقوق دوسروں پر واجب ہیں وہ سارے اُسے ملیں لیکن خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کی غرض سے وہ یہ کہتا ہے کہ میرے حقوق کی سو یونٹ یا اکائیاں دوسرے شخص پر واجب ہیں لیکن میں ان میں سے صرف ۸۰ لوں گا اور ۲۰ چھوڑ دوں گا اور جو اس کا دوسرا پہلو ہے کہ ہر ایک شخص خدائے صمد کا محتاج ہے اس رنگ میں ہر ایک انسان کا محتاج نہیں ہوتا۔کچھ ہلکی سی جھلک اس میں آجاتی ہے اور وہ اس طرح پر کہ وہ یہ کہتا ہے کہ جو حقوق دوسروں کے اس پر واجب ہیں ، اُن سے زیادہ میں دوسروں کو دوں گا یا اُن سے زیادہ حسن سلوک کروں گا۔پس پورے طور پر تو انسان صدر نہیں بن سکتا اور نہ دوسروں کی محتاجی سے وہ نجات حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہر ایک لحاظ سے اور ہر معنی میں اس کا محتاج بن سکتا ہے لیکن انسان کو جتنی طاقت دی گئی ہے اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ وہ اس صفت (صمد ) کا رنگ بھی اپنے اوپر چڑھائے۔اس لئے جو لوگ یہ گلہ شکوہ کرتے ہیں کہ فلاں نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور وہ کیا یا اُن پر ہمارا حق ہے وہ ہمیں ملنا چاہیے، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم محسن ہو تو یہ مطالبہ نہ کرو۔جو تمہارے حقوق ہیں ، اُن میں سے بہتوں کو چھوڑ دو۔اُن کا مطالبہ نہ کرو لیکن تم نے دوسروں کے جو حقوق دینے ہیں، وہ تم زیادہ دو۔اگر تم ایسا کرو گے اور ان دوطریقوں سے تم اپنی زندگی گزارو گے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میری معیت تمہیں حاصل ہو گی۔اگر تم متقی اور محسن بنو گے تو میں تمہارا متولی اور متکفل بن جاؤں گا۔تم کسی اور کی طرف نگاہ نہ کرو میں ہر ضرورت کے وقت تمہاری مدد کروں گا اور تمہاری ہر ضرورت کو پورا کروں گا اور تمہیں یہ توفیق دوں گا کہ تم غیروں پر احسان کرو اور احسان کے ذریعہ اُن کے دلوں کو جیتو۔خدا کرے کہ ہم جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور جن پر یہ ذمہ داری