خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 590
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹۰ خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۷۴ء تقویٰ کا جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جس کے متعلق میں نے اس وقت دو حوالے پڑھ دیئے ہیں۔تفسیر آپ خود سمجھ جائیں گے اور دوسرے یہ کہ وہ احسان کرنے والے ہوں۔احسان کے دو موٹے معنی ہیں وہ میں اس وقت بیان کر دیتا ہوں۔احسان کے ایک معنے یہ ہیں کہ انسان اپنی قوتوں اور استعدادوں کو موقع ومحل کے لحاظ سے استعمال کر کے جو اچھے خلق بجالاتا یا بجالا سکتا ہے اُن کو پورے محسن کے ساتھ بجالائے۔اُن کو اچھی طرح ادا کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرے۔ایسی کوشش کہ اس میں کوئی خامی اور کوئی کمی نہ رہے مثلاً خدمت خلق ہے۔انسان کو اس کی طاقت دی گئی ہے۔اس لحاظ سے احسان کے معنی یہ ہوں گے کہ خدمت خلق کے سارے پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر اور اپنی بساط کے مطابق اس خدمت کو کمال تک پہنچانا۔اسی لئے ہماری جماعت جو ایک غریب اور چھوٹی سی جماعت ہے جب کبھی خدمت خلق کا موقع پیدا ہوتا ہے تو یہ کوشش یہ کرتی ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے قطع نظر اس کے کسی کا عقیدہ کیا ہے یا کسی کا سیاسی مسلک کیا ہے، خدمت کے لئے باہر نکلتی ہے اور لوگوں کی بے لوث خدمت بجالاتی ہے اور خدمت کے ہر موقع کو اس کے کمال تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔گویا احسان کے ایک معنی ہر اچھے فعل کے کرنے اور ہر اچھے خُلق کے اظہار کو انتہا تک پہنچانے کے ہوتے ہیں۔احسان کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ میں رنگین ہو کر بنی نوع انسان پر احسان کرنا۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ایک صفت اس کا صمد ہونا ہے یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں اور ہر شخص اس کا محتاج ہے۔انسان کلی طور پر یہ صفت اپنے اندر پیدا نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی اسے طاقت نہیں دی گئی۔کسی انسان کو یہ استعداد نہیں دی گئی کہ وہ کلی طور پر یہ کہے کہ کسی کی اُسے ضرورت نہیں اور ہر ایک کو اس کی ضرورت ہے۔یہ تو ایک عجیب خیال ہوگا بلکہ یہ تو پھر خدائی کا دعوئی بن جائے گا کیونکہ اب بھی دیکھ لو یہاں جتنے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں اُنہوں نے جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، ان کپڑوں کے بنانے والے آدمی کی انہیں احتیاج تھی اسی طرح اور ہزاروں مثالیں ہیں جو انسانی زندگی میں ہمیں ملتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ صمد ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔اس