خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 536
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۳۶ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۷۴ء واضح اور روشن نہیں جتنی اسلام نے واضح اور روشن تعلیم دی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ دوسرے مذاہب کی تعلیم کو دیکھ کر دہر یہ دماغ میں یہ بات آئی ہو کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے تو کچھ نہیں ملتا جو کچھ ملتا ہے وہ انسان کی اپنی کوشش کے نتیجہ میں ملتا ہے۔غرض مذہب کے خلاف یہ جو پرو پیگنڈا کیا جارہا ہے اور ایک شور مچایا جا رہا ہے کہ مذہب تو محض ایک افیون ہے۔انسان جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ اس کی اپنی کوششوں کا مرہونِ منت ہے اور اس بارہ میں اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اور جو حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر قرآن کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوئی ہے اُسے میں اس وقت مختصر بیان کروں گا۔اس تعلیم کا ایک حصہ وہ ہے جس کا کسی دوسرے مذہب نے ذکر نہیں کیا کم از کم میرے علم میں نہیں کہ کوئی انسانی دماغ وہاں تک پہنچا ہو۔بعض دفعہ لوگ تفاصیل میں گئے بغیر اسلامی تعلیم سے ملتی جلتی باتیں کہہ دیتے ہیں لیکن جو حصہ میں ابھی بیان کروں گا وہ میں نے کسی ازم میں نہیں دیکھا۔اسے میں نے نہ کمیونزم میں دیکھا نہ چینی سوشلزم میں دیکھا اور نہ کیپیلزم میں دیکھا ہے حالانکہ ایک وقت میں سرمایہ دارانہ نظام بڑی بلندی پر پہنچا ہوا تھا۔اس نظام نے بڑے بڑے فلاسفر پیدا کئے جنہوں نے میٹا فزکس (Metaphisics) یعنی ما بعد الطبیعیات پر بھی فلسفیانہ کتب لکھیں اور اخلاقیات پر بھی بظاہر بڑے گہرے مضامین بیان کئے۔ہم نے ان مختلف نظریات رکھنے والے لوگوں کی کتابوں کا مطالعہ کیا ان پر غور کیا اور بالآخر ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ جو تعلیم ہمیں اسلام نے دی ہے اور انسان کے ہاتھ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو شریعت پہنچائی گئی ہے وہ ان حسین گوشوں اور زاویوں کو بھی نمایاں کرتی ہے جو انسانی عقل سے پوشیدہ رہتے ہیں اور انسان کا دماغ وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے یہ تعلیم بیان کی ہے اور احادیث میں اس کی تفسیر بیان ہوئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھول کر یہ چیزیں ہمارے سامنے رکھی ہیں۔میں اُن کو مختصراً بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔اسلام نے پہلی بات ہمیں یہ بتائی ہے کہ اس یو نیورس (Universe) اس عالمین کی