خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 537 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 537

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۳۷ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۷۴ء ہر چیز بلا استثنی انسان کی خدمت کے لئے اور اسے فائدہ پہنچانے کے لئے پیدا کی گئی ہے۔آج سے چودہ سوسال پہلے جب کہ چاند سے فائدہ حاصل کرنے کا تخیل بھی انسان کے ذہن میں نہیں آیا تھا، قرآن کریم نے یہ اعلان کیا۔أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (لقمان: ٢١) اور ایک دوسری جگہ فرمایا وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴) کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے۔اس کا ئنات کی ہر چیز تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے اور اُسے تمہاری خدمت پر لگا دیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں اسلام نے ہمیں ایک بہت ہی عظیم اور بڑی ہی حسین بات یہ بتائی ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کے فوائد غیر محدود ہیں۔میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا کہ کسی شخص نے اس مسئلہ پر اس رنگ میں روشنی ڈالی ہو۔اسلام کے مقابلہ پر کوئی انسان کسی مقام پر کسی زمانہ میں کھڑے ہو کر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا۔اگر کوئی بیوقوف یہ دعوی کرے تو ہم اس کو ٹھٹلانے کے لئے کافی ہیں۔مثلاً کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ چیونٹی کے پاؤں کی جو خاصیتیں ہیں یا اللہ تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے چیونٹی کے پاؤں کی خلق کے ذریعہ ظاہر ہوئے ہیں وہ گنے جاسکتے ہیں یا ہم نے گن لئے ہیں اور اب اور کوئی خاصیت باقی نہیں رہی جسے معلوم کیا جا سکے۔میں تو کسی خاص فن کا ماہر نہیں ہوں اور نہ سپیشلسٹ ہوں کسی مضمون کا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے علم حاصل کرنے کا شوق عطا فرمایا ہے اور آنکھیں کھلی رکھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔آنکھوں سے مشاہدہ بھی کیا ہے اور لوگوں کے مشاہدات کو بھی پڑھا ہے۔چنانچہ دیکھنے میں یہ آیا کہ ایک وقت میں تجزیہ کرنے والوں نے کہا کہ افیون میں ۸ است ہیں اور بس۔اور پھر اور آگے آئے اور کہا ہم نے کچھ اور ست نکال لئے ہیں۔میرا خیال ہے اب تک ۳۵۔۴۰ یا شاید اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو اس وقت میں نے ایک مضمون میں پڑھا تھا کہ افیون کے ۱۸ یا ۲۰ ست معلوم ہوئے ہیں مگر پھر اورست نکلتے چلے گئے۔اسی طرح عورتوں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہے۔انسان نے ایک وقت میں یہ