خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 355 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 355

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۵۵ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۳ء ہیں۔اُن کو وہ تکلیف تو برداشت کرنا نہیں پڑتی۔ہمارے نذیر احمد علی صاحب شہید ( اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بہت بلند کرے) سیرالیون میں مدفون ہیں۔جب وہ پہلی مرتبہ بھیجے گئے۔وہ خدا کا ایک دلیر سپاہی تھا۔مجھے افریقیوں نے بتایا ہے کہ اُنہوں نے یہ کرنا شروع کیا کہ کتابوں کی گٹھڑی کچھ اپنے سر پر کچھ کسی دوسرے کے سر پر رکھ کر ایک گاؤں میں گئے۔وہاں کے لوگوں نے کہا ہم تمہیں ماریں گے۔نکل جاؤ یہاں سے ! انہوں نے جواب دیا ٹھیک ہے میں لڑنے نہیں آیا۔میں تو ایک صداقت تمہارے سامنے رکھنے آیا ہوں۔تمہیں پسند نہیں تو میں چلا جاتا ہوں۔پھر اگلے گاؤں میں گئے۔پھر وہاں سے بھی نکالے گئے یہاں تک کہ دو چار گاؤں کے بعد پھر کسی شریف آدمی نے کہا کہ کہاں مارے مارے پھرو گے تمہیں پناہ دے دیتا ہوں۔پھر وہاں انہوں نے قیام کیا۔اور انہیں باتیں بتا ئیں۔سچی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں۔اس طرح اُنہوں نے تبلیغ کی اب جو ہمارا نوجوان سیرالیون میں جاتا ہے جہاں اُن کی قبر ہے تو وہ ایک بنے بنائے مضبوط قلعے میں جاتا ہے۔اُس کو تو کوئی تکلیف نہیں۔اُس کو سر کے اوپر کتابوں کا بنڈل رکھ کر نہیں گھومنا پڑتا۔پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں زیادہ تکلیف ہے۔اُن کے مقابلہ میں تمہیں زیادہ تکلیف کیسے ہو گئی۔بہر حال صفتِ اوّل کی تحریک جدید کو بیرون مرکز تبلیغ کی ابتدا کرنے اور کامیاب کرنے کی خصوصیت حاصل ہے۔ایک صف نکلی تھی جو علاقوں میں پھیل گئی۔اب ہماری دوسری صفیں مثلاً نصرت جہاں کی سکیم کے ماتحت کنسولی ڈیشن (Consolidation) یعنی ان پہلی صفوں کو استحکام بخش رہی ہیں۔جن علاقوں میں اُنہوں نے احمدیت قائم کی۔احمدیت کے اثر ورسوخ کو مستحکم اور زیادہ کرنے کے لئے اور پھر ان مبلغین کی اس معنی میں امداد کرنے کے لئے کہ لوگ زیادہ توجہ کریں اور صحیح اسلام کو سیکھنے کی کوشش کریں۔اس کے لئے ہم کثرت کے ساتھ اب استاد اور ڈاکٹر بھیج رہے ہیں اور وہاں سکول کھولے گئے ہیں۔ایک نیا سکول کھلا ہے۔پرسوں مجھے ایک خط آیا ہے کہ پرانے سکولوں سے سر ٹیفکیٹ لے کر ہماری طرف آرہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔بہر حال اس وقت جہاں تک غلبہ اسلام کی مہم کا سوال تھا شکل تو بدل گئی ہے لیکن یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ پہلی صف جو دنیا پر اسلام کے غلبہ کے لئے روحانی ہتھیار۔۔