خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 332
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳۲ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء اپنی زبان سے تفسیر کی اور اس کے بطون میں سے بعض کی تفصیلی تفسیر کر دی اور بعض کی اجمالی تفسیر کی جو خفی بطون کی صحیح تفسیر کو پرکھنے کے کام آسکتے ہیں۔بہر حال جو تفصیلی تفسیر قرآن آپ نے فرمائی اس کے نتیجہ میں قرآن کریم کا کتاب مبین ہونا دنیا میں ظاہر ہو گیا۔اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ سے محبت رکھنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے بننے کے بعد امت محمدیہ میں لاکھوں ایسے مقرب فرزندانِ اسلام پیدا ہوئے جن کا معلم معلم حقیقی تبارک و تعالی خود بنا اور مطہر مین کے اس گروہ نے اپنے اپنے زمانہ میں اس زمانہ کی حاجتوں اورضرورتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے قرآن عظیم کی تفسیر سیکھی اور اپنے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اسے بیان کیا۔اپنے زمانہ کے جو نئے اعتراضات اسلام اور قرآنِ عظیم پر پڑ رہے تھے ان کا رڈ کیا اور انہیں غلط ثابت کیا لیکن کتاب مبین کی ابتدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی اور آپ کے ارشادات اور آپ نے جس طرح قرآنِ عظیم کی تفسیر بیان کی اس سے قرآنِ عظیم کی ابدی صداقتیں اور بنیادی حقیقتیں بھی اور بطون بھی تفصیلاً یا اجمالاً دنیا کے سامنے آگئے کیونکہ جو مخفی بطون تھے اور قیامت تک جنہوں نے ظاہر ہونا تھا ان کی طرف بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجمالی اشارے کئے۔اس وقت میں اس مضمون کی طرف توجہ نہیں دوں گا۔جس طرح کتاب پڑھنے والا ہر صفحہ پڑھنے کے بعد کتاب کا صفحہ الٹاتا ہے اسی طرح ہر زمانہ کے مطہرین نے زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات کے لحاظ سے قرآنِ عظیم کے نئے بطون کو سیکھا اور سیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے حاجتِ زمانہ کے مطابق نئی تفسیر قرآن دنیا کے سامنے پیش کی جو نئے اسرار و بطونِ قرآنی کے ظہور کے بعد کتاب مبین کا حصہ بن گئی۔بدلتے ہوئے زمانہ کے ساتھ ظاہر ہو جانیوالے رموز و اسرار قرآنی جو مبین اور کھلے کھلے علوم قرآنی ہیں ان کی بھی دو وجوہات کی بنا پر آج ضرورت ہے۔ایک اس لئے کہ ماضی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن کریم کے وہ معانی اور اسرار اور معارف اور حقائق کے حصے جو ماضی کی ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے اور جو ماضی کے اعتراضات کو رڈ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے تھے کہ دنیا کے سامنے پیش کئے جائیں۔وہ سارے اعتراضات ایسے نہیں