خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 333 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 333

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳۳ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء کہ جو قصہ پارینہ بن گئے ہوں بلکہ ہر آنے والے کو اَسَاطِيرُ الأَولِین بھی کہا گیا کہ اس کی باتیں تو وہی ہیں جو پہلوں نے کہی تھیں۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان باتوں پر بھی وہی اعتراضات ہیں جو پہلوں نے کئے تھے۔چونکہ اسلام پر ماضی کے اعتراضات خود کو دہراتے ہیں اس لئے ان اعتراضات کے جو صحیح اور مسکت جوابات ہیں جو کتاب مبین کا حصہ ہیں انہیں بھی ہمیں دہرانا پڑتا ہے۔پس کتاب مبین کی آج بھی ضرورت ہے یعنی وہ صحیح اور حقیقی تفسیر قرآنی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم سے پہلوں نے کی اس کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے۔( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی اور لسانی تفسیر کی ہر آن ضرورت ہے ہمارا بیان بعد میں آنے والی مظہرین کی جماعتوں سے تعلق رکھتا ہے )۔اس لئے کہ تفسیر کے جس حصہ کا تعلق ماضی کے اعتراضات کو دور کرنے کے ساتھ ہے جب وہ اعتراضات آج بھی دہرائے جاتے ہیں اور جس حد تک وہ اعتراضات اب بھی دہرائے جاتے ہیں اس حد تک کتاب مبین میں جوان اعتراضات کے مسکت جوابات ہمیں ملتے ہیں وہ ہمیں یاد ہونے چاہئیں۔پس ایک تو قرآن سیکھنا اور سکھانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ ابدی صداقتوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اسی طرح اس کا تعلق کتاب مبین کے اس حصہ کے ساتھ ہے جو اعتراضات کو رفع کرنے والا ہے اور پہلوں نے اللہ تعالیٰ سے سیکھا اور جس کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے۔دوسرے نئے معارف قرآنی نئی ضرورتوں کو پورا کرنے اور نئے مسائل کو حل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے جو مسائل اور الجھنیں مثلاً آج سے ہزار سال پہلوں کی تھیں وہ مسائل یا ان میں کچھ کا تعلق آج سے بھی ہے یعنی مسائل بالکل ہی بدل نہیں جاتے۔بہت سے مسائل انسانی زندگی کے ایسے ہیں جو اپنے آپ کو دہراتے ہیں جو اصرار کرتے ہیں اس بات پر کہ ہم بار بار آئیں گے اور تمہارے لئے الجھنیں پیدا کریں گے۔ان بار بار الجھنیں پیدا کرنے والے مسائل کا حل پہلوں کو سکھا دیا گیا کیونکہ ماضی سے اس کا تعلق ہے اور جو ان مسائل کو حل کرنے کے لئے معارف اور حقائق اور اسرار قرآنی پہلوں کو بتائے گئے تھے آج ان کی ضرورت باقی رہی۔اس سے ہم غنی اور بے نیاز نہیں بن جاتے۔پس کتاب مبین کا حصہ بھی ایسا نہیں جس کی