خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 331
خطبات ناصر جلد پنجم ٣٣١ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آیا ہے کہ جب پوچھا گیا کہ آپ کے اخلاق کیسے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا ” قرآن یعنی قرآن کریم نے جو تعلیم دی جن اصول اور حدود کو قائم کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی وہی نظر آتا ہے اور ہمیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگیوں کے لئے اسوہ بناؤ۔پس اُمّت مسلمہ میں ایک ایسی امت اور گروہ بزرگوں کا ہونا چاہیے بزرگ عمر کے لحاظ سے نہیں بلکہ اپنی عاجزی کے لحاظ سے اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے کے لحاظ سے نیز بزرگ نیستی کے اعلان کے بعد اپنے رب سے بے لوث محبت کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے لحاظ سے ) جو نمایاں طور پر دوسروں کے لئے قابل تقلید مثال اور اپنی استعداد کے معراج پر پہنچنے کے بعد جتنا کسی انسان کے لئے اسوہ کا بناممکن ہے مثیل بن جانے والے ہوں۔اصل میں تو الاسوۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ ہی ہمارے لئے ایک مثال ہیں ان معنوں میں کہ ہم وہی رنگ اپنے اوپر چڑھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگے جائیں اور اس طرح پر اس نیک مثال کے قائم کر نے کے ساتھ دنیا کو قرآنِ عظیم کی طرف بلائیں۔میں نے ایک خطبہ میں بتایا تھا کہ قرآنِ عظیم کے دو پہلو ہیں۔ایک اس کا کتاب مبین ہونا ہے اور دوسرا پہلو اس کا کتاب مکنون ہونا ہے۔کتاب مبین ہونے کی ابتدا یعنی قرآنِ عظیم کا یہ پہلو جو پہلی مرتبہ نوع انسانی کو نظر آیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی اور لسانی تفسیر کے ساتھ ہے یعنی آپ کی زندگی قرآنِ کریم کی عملی تفسیر تھی اور آپ کے ارشادات قرآنِ کریم کی لسانی تفسیر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت کی اور ہم اس مسئلہ کو سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد تفسیر قرآن ہے۔وہ قرآن پر کوئی اضافہ نہیں کیونکہ اگر اس کو اضافہ سمجھا جائے تو قرآن کریم کو نعوذ باللہ اس حد تک ناقص سمجھا جائے گا حالانکہ قرآن عظیم میں کوئی نقص اور خامی اور کمی نہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن پر عمل اور آپ کے ارشادات قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔پس پہلا انسان وہ انسانِ کامل تھا جس نے اس کامل شریعت اور ہدایت کی اپنے عمل اور