خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 282 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 282

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۲ خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۷۳ء راہوں کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اللہ تعالیٰ کی انتہائی محبت کو حاصل کریں۔یہی وہ غرض ہے جس کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور اب اسی غرض کے لئے آپ کے ایک عظیم روحانی فرزند اور جرنیل کو مہدی معہود اور مسیح موعود علیہ السلام کی شکل میں مبعوث کیا گیا ہے۔پس یہ دعاؤں کے دن ہیں۔دوست ان دنوں بہت دعائیں کریں۔اپنی تمام ذمہ داریوں کو اپنی نگاہ میں رکھیں اور ہر ذمہ داری کے سلسلہ میں جو دعا آپ پر فرض ہوتی ہے وہ دعا کثرت سے کرتے رہیں۔دوسری بات جو اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نیکی مزید نیکیوں کی تو فیق عطا کرتی ہے۔ماہ رمضان کی عبادتیں اگر خلوص نیت سے کی جائیں تو نیکیوں سے محروم کرنے والی نہیں ہوں گی بلکہ مزید نیکیوں کے لئے زیادہ بشاشت پیدا کرنے والی ہوں گی۔رمضان کے معا بعد اس فرض کو ( جورمضان کے دنوں میں ہوتا ہے ) زیادہ چمکانے کے لئے اور مزید فرائض کی ادائیگی کی توفیق پانے کے لئے اسلام میں نوافل بھی رکھے گئے ہیں۔چنانچہ فرض نمازوں اور روزوں کے علاوہ نفلی روزے ہیں۔نفلی نمازیں ہیں۔خود رمضان بھی ایک لحاظ سے نوافل نماز کا مہینہ ہے۔پھر اس مہینے میں اور دوسری قربانیاں ہیں لیکن میں اس وقت ان کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔پس ماہِ رمضان کی یہ عبادتیں اپنے اندر عظیم وسعت رکھتیں اور بڑی برکتوں کی حامل ہیں۔اس لئے رمضان کے نتیجہ میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ چونکہ رمضان کے چند دنوں بعد ہی ہمارا اجتماع ہے اس کی وجہ سے شاید ہماری حاضری پر اثر پڑے گا۔ان کو اس وہم میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔یہ اجتماع اگر چہ ایک نفلی چیز ہے لیکن یہ اس فوج کی تربیت کے لئے جس نے اسلام کی جنگ لڑنی ہے ایک ضروری نفلی عبادت کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا یہ اصول جانتی ہے کہ ہر نیکی مزید نیکیوں کی تو فیق عطا کرتی ہے اس لئے انسان جب فرائض سے سبکدوش ہوتا ہے تو وہ نوافل کے لئے پہلے سے زیادہ بشاشت اپنے اندر پاتا ہے اور یہ ہر احمدی کو معلوم ہے یا کم از کم معلوم ہونا چاہیے اگر بھول گیا ہے