خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 283
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۳ خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۷۳ء تو ذکر کے حکم کے ماتحت اسے یاد دھانی کرانی چاہیے۔پس مجالس اور خدام کی تعداد کے لحاظ سے پچھلے سال سے کہیں زیادہ نمائندگی اس اجتماع میں ہونی چاہیے۔کیونکہ ہر سال ہمارا قدم گزشتہ برس کی نسبت آگے ہی بڑھتا ہے۔اور تیسری بات جو میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم نے ” نصرت جہاں“ کے نام سے ایک منصو بہ بنایا تھا اور پچھلے تین سال سے زائد عرصہ میں ہم اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔اس منصوبہ کے دو حصے ہیں۔ایک اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے مالی قربانیاں دینا اور دوسرے اس کی بنیادوں پر منزل پر منزل بناتے چلے جانا۔جہاں تک مالی لحاظ سے قربانیاں دینے کا سوال ہے ہم عاجز بندوں کا یہ منصوبہ اور یہ تدبیر اس سال ختم ہو رہی ہے۔مالی قربانی کے سلسلہ میں دوستوں نے جو وعدے کئے تھے اور جن کو انہوں نے تین سالوں پر پھیلا کر پورا کیا ہے اس کا تھوڑا سا حصہ باقی ہے۔اس وقت یہاں کے صحیح اعداد و شمار تو میرے ذہن میں نہیں کیونکہ مجھے رپورٹ نہیں ملی لیکن انگلستان کی جماعت سے میں نے رپورٹ لی تھی اور وہ اس وقت میرے ذہن میں ہے۔خلافت ثانیہ جتنے سالوں پر ممتد تھی اس ا کے لحاظ سے انہوں نے ۵۱ ہزار پاؤنڈ کے وعدے نصرت جہاں کے منصوبہ کے لئے تھے۔جن میں سے وہ ۴۷۱۴۶ ہزار پاؤنڈ ادا کر چکے ہیں ۵/۴ ہزار پاؤنڈ ابھی باقی ہے۔ان کو میں نے توجہ دلائی تھی کہ تھوڑی سی رقم باقی رہ گئی ہے۔اس کی جلد ادائیگی کریں۔قریباً اسی نسبت سے پاکستان اور بیرونِ پاکستان کی جماعتوں کا بقایا ہو گا۔پس جہاں تک مال کے وصول کرنے کا تعلق ہے اگر میں نے مہلت دی تو زیادہ سے زیادہ جلسہ سالانہ تک دے سکتا ہوں۔اس سے زیادہ مہلت دینا میرے بس کی بات نہیں ہے۔اس کی طرف میں ابھی اشارہ کر دوں گا۔بہر حال میں آپ سے اس وقت تاکیداً کہنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں کے ذمہ نصرت جہاں سکیم کے وعدے ہیں وہ جلد ادا کر دیں۔غالباً نومبر میں آخری سال ختم ہو رہا ہے۔لیکن آج میں ایک مہینے کی اور مہلت دے دیتا ہوں۔۲۰ دسمبر سے پہلے پہلے بقایا جات ادا ہو جانے چاہئیں۔نصرت جہاں کا دفتر نوٹ کرے اور جماعتوں کے ذمہ دارا حباب اسے یادرکھیں کہ اس کے بعد کوئی رقم اس مد میں