خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 280
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۰ خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۷۳ء ۱۰۴ تک آ گیا اور ۸۰ سے گر کر ۷۰ تک آ گیا جس کی وجہ سے بڑی شدید ضعف کی کیفیت پیدا ہو گئی۔آج طبیعت نسبتاً بہتر ہے۔لیکن ابھی خون کا دباؤ معمول کے مطابق نہیں ہوا لیکن بعض باتیں ایسی تھیں جن کو اگلے جمعہ تک ملتوی کرنا مناسب نہیں تھا۔کیونکہ وقت کم ہے اس لئے ان کے متعلق میں اس وقت مختصر ا دوستوں سے کچھ کہوں گا۔پہلی بات تو یہ ہے اور یہ ایک بنیادی بات ہے اور نہایت ہی اہم بلکہ ایک لحاظ سے ہماری زندگی کی سب سے اہم بات ہے اور وہ یہ کہ انسان کی حقیقی زندگی کی بنیاد دعا پر رکھی گئی ہے۔دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بغیر نہ انسان کی زندگی نہ اس کی بقا اور نہ اس کا ارتقا ممکن ہے۔ماه رمضان دعاؤں کا مہینہ ہے۔یہ دعاؤں کے دن ہیں۔اس ماہ مبارک میں جماعتِ احمد یہ کو انتہائی مجاہدہ سے اپنی دعا کی تدبیر کو اس کے کمال تک پہنچانا چاہیے۔دعا بھی ایک روحانی تدبیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں کو سکھائی ہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ اس تد بیر کو کمال تک پہنچائیں اور عاجزانہ طور پر اپنے ربّ کریم کے حضور جھک کر اس سے اپنے ذاتی ارتقا کی بھیک مانگیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہم میں سے ہر فرد میں جو فطری صلاحیتیں پیدا کی ہیں، وہ اپنے فضل سے ان کی کامل نشو ونما کے سامان پیدا کرے اور ہر فر دکو کمال نشوونما کے حصول کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری یہ ارتقائی حرکت ہماری زندگیوں میں عروج کو پہنچ جائے۔تاکہ ہم اس دنیا کی بہترین جنت اور اس دنیا کی اعلیٰ جنتوں کے اعلیٰ مقامات کو حاصل کرنے والے ہوں۔اسی طرح دوست دعا کریں اور بہت دعا کریں کہ جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام میں اس جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ جماعت کو انفرادی زندگی اور اجتماعی جدو جہد اور کوشش میں صراط مستقیم پر قائم رکھنے اور ہر وہ چیز اس کے حضور قربان کرنے کی توفیق بخشے جس کا وہ آج ہم سے مطالبہ کر رہا ہے۔دوست یا درکھیں کہ غلبہ اسلام کی مہم نہ تو