خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 279

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۷۹ خطبه جمعه ۱٫۵ کتوبر ۱۹۷۳ء جماعت کو انتہائی مجاہدہ سے اپنی دعا کی تد بیر کو کمال تک پہنچانا چاہیے خطبه جمعه فرموده ۵ اکتوبر ۱۹۷۳ ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔بیماری بھی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔کبھی جانتے بوجھتے اور کبھی غفلت میں انسان اپنے لئے بیماری کا سامان پیدا کر لیتا ہے چند دن ہوئے مجھ پر پیچش کا بڑا شدید حملہ ہوا۔چنانچہ کچھ پیچش کی وجہ سے اور کچھ اس دوائی کی وجہ سے جو آج کی طب اس مرض کے علاج کے لئے دیتی ہے۔ضعف کی کیفیت اس حد تک پہنچ گئی کہ کل صبح میرے خون کا دباؤ (بلڈ پریشر ) گر کر ۱۰۴ اور ۷۰ تک آ گیا۔ہر فرد کا بلڈ پریشر یعنی اس کے خون کا دباؤ مختلف ہوتا ہے۔گوانسان کو دیکھ کر اطباء نے کتابیں لکھی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو اطباء کی کتب کے مطالعہ کے بعد تو پیدا نہیں کیا۔آج کے بہت سے اطباء اور ڈاکٹر بعض دفعہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غرض ہر فرد واحد کے خون کا دباؤ اپنا ہے جو دوسرے شخص سے مختلف ہوسکتا ہے معمول کے مطابق میرے خون کا دباؤ اوپر کا ۱۲۴/۱۲۳ اور نچلا ۸۰ کے قریب ہے۔بلڈ پریشر یا خون کے دباؤ کے دو حصے ہوتے ہیں جنہیں ہماری زبان میں ایک کو اوپر کا اور دوسرے کو نچلا بلڈ پر یشر کہہ دیتے ہیں ویسے اس کا اصطلاحی نام کچھ اور ہے۔چنانچہ ضعف کی وجہ سے میرے خون کا دباؤ ۱۲۴/۱۲۳ سے گر کر