خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 198 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 198

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۹۸ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۳ء نے فرمایا ہے کہ جس وقت ایک سائنسدان کسی مرحلہ پر اپنی بے بسی کا احساس کرتا ہے تو اس وقت وہ کسی غیر مرئی چیز کا سہارا لیتا ہے۔اس وقت اس کے سامنے اندھیرا ہوتا ہے۔ایک عارف عارفانہ دعا کرتا ہے اور ایک جاہل جاہلانہ دعا کرتا ہے۔علم کی بھی مختلف حیثیتیں ہیں۔ہر انسان کے سامنے ہزاروں باتیں آتی ہیں اور وہ ان کا علم رکھتا ہے مثلاً میں نے ایک مثال دی کہ ہم سب اس بات کا علم رکھتے ہیں کہ اس وقت دن ہے رات نہیں ، ہم اس بات کا علم رکھتے ہیں کہ آج جمعہ ہے پیر نہیں ، ہم اس بات کا علم رکھتے ہیں کہ مسجد کے ہال میں اکثر احمدی بیٹھے ہیں (ممکن ہے ہمارے دوسرے دوستوں یعنی غیر احمدیوں میں سے بھی کوئی دوست ہوں ) عورتیں نہیں۔بے شمار اس قسم کی واضح باتیں ہیں جو ہمارے علم میں آتی ہیں۔وہ ہے علم عام انسانوں کا یا ایک سائنس دان کا علم ہے۔جس وقت کسی اصول اور قاعدے کو وہ واضح طور پر عیاں سمجھے وہ اس کا علم ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ اس قسم کے علوم میں آج ایک سائنسدان کا جو علم ہے کل اس کو اس کا انکار کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ان معاملات میں بسا اوقات وافر حصہ کھل جانے پر یقین کر لیتا ہے لیکن ابھی اس کی حقیقت ہر طرح سے کھلی نہیں ہوتی۔پس جس وقت کوئی چیز وافر حصہ کھل جانے کی وجہ سے معلوم ہوتی ہے تو وہ اس عالم کا علم بن جاتا ہے لیکن چند سال کے بعد مزید تحقیق کے نتیجہ میں وہ بات واضح نہیں رہتی اور شبہ پڑ جاتا ہے پھر وہ بات علم سے باہر نکل جاتی ہے۔اس کے برعکس حقیقی علم وہ ہے جو ظاہر اور عیاں ہو۔اس میں کسی شک کی گنجائش نہ ہو وہ علم ہے۔مثلاً خود اپنی ذات کا علم ہر ایک کو کہ میں ہوں یہ احساس کہ میں ہوں۔میں بھی ایک انسانی فرد ہوں۔یہ اس کا علم ہے۔یہ بڑی واضح چیز ہے۔ایمان کے مفہوم میں بنیادی طور پر یہ بات پائی جاتی ہے کہ کچھ پہلو غیب میں ہے جس پر ہم ایمان لاتے ہیں اسی واسطے قرآن پاک کے شروع میں ہی يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کہا گیا ہے۔پس غیب کی باتوں کو مان لینا یہ ایمان کا لازمی حصہ ہے۔اس کے بغیر ایمان ایمان ہے ہی نہیں۔مثلاً اس علم پر کہ آج جمعہ ہے اور اس وقت دن کا ایک حصہ ہے کوئی ثواب نہیں کیونکہ یہ بات اتنی ظاہر ہے که نه صرف انسان بلکہ چمگادڑ کو بھی پتہ ہے اسی لئے جب دن غائب ہو جاتا ہے تو وہ اپنے کمین گاہوں