خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 199 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 199

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۹۹ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۳ء سے باہر نکل آتی ہے۔پس دن کے وقت اس کا چھپ جانا اور رات کو باہر نکل آنا یہ بتاتا ہے کہ دن اور رات اتنی واضح چیز ہے کہ انسان کے علاوہ بہت سی دوسری مخلوقات کو بھی پتہ ہے۔سارے جاندار حیوانات کو پتہ ہے۔پھر درختوں کو پتہ ہے کیونکہ ان کا دن اور رات کا رد عمل مختلف ہے۔ان کا رد عمل دن کے وقت اور ہے اور رات کے وقت اور ہے مثلاً دن کے وقت درخت آکسیجن باہر نکالتے ہیں اور رات کے وقت کھا رہے ہوتے ہیں تو دن اور رات کے رد عمل میں فرق ہے کہ جس قسم کی بھی جس اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں دی گئی ہے وہ اس میں تمیز کر رہی ہے لیکن سب مخلوقات میں سے صرف انسان کو ثواب ملتا ہے تو اب علم پر نہیں ملتا ایمان پر ملتا ہے اور ایمان کا لازمی حصہ غیب پر ایمان لانا ہے۔غیب پر ایمان عقلاً آگے دوحصوں میں منقسم ہو جاتا ہے۔ایک وہ غیب ہے جس کے حق میں قرائن مرتبہ نہیں ہیں۔قرائن قویہ نہیں ہیں اور جس غیب کا میلان یقین کی نسبت شک کی طرف زیادہ ہے۔اسلام نے ہمیں اس غیب پر ایمان لانے کے لئے نہیں کہا جیسا کہ قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے یہ بات عیاں ہے۔ایک غیب وہ ہے جس کا میلان شک کی نسبت یقین کی طرف زیادہ ہے۔پس قرائن قویہ مرتبہ جہاں پائے جائیں ایک مومن اس پر ایمان لاتا ہے۔مثلاً ایمان باللہ ہے۔اس ایمان کا ایک پہلو علم کی طرح عیاں ہے اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا تعلق ہے اس کا ایک پہلو عیاں بھی ہے لیکن جو تصور اسلام نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا دیا ہے اس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی وسعتوں کے مقابلہ میں یہ عیاں پہلو اتنا بھی نہیں جتنا سمندر میں سے ایک قطرہ اٹھا لیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی صفات کے جلوؤں کی حد بندی نہیں کی جاسکتی وہ ذات غیر محدود ہے اور کسی محدود کی غیر محدود کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا ایک حصہ تو ہمارے سامنے آگیا لیکن بڑا حصہ ہم سے پوشیدہ ہے۔اس پر ہم ایمان بالغیب لاتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے ان جلوؤں پر جو ہنوز پردہ غیب میں ہیں پھر ایمان بالغیب کا تعلق ملائکہ اور حشر ونشر سے ہے۔وہ ایمان بالغیب کی ایک اور لائن ہے ایمان بالغیب کے کچھ اور پہلو بھی ہیں جنہیں میں مثال کے