خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 181
خطبات ناصر جلد پنجم ΙΔΙ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء زیادہ دلیر تھے وہ آپ کے قریب رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ان کے اس جذبہ سے پتہ لگتا تھا کہ وہ کتنے دلیر ہیں۔صحابہ اتنے دلیر تھے تو ہمارے آقا و مولا سید نا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتنے دلیر ہوں گے اس کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ رات کو خوف پیدا ہوا۔لوگ ابھی تیاریاں کر رہے تھے یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ خوف کیوں اور کس وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ اسی اثناء میں لوگوں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے تشریف لا رہے ہیں۔صحابہ کے عرض کرنے پر آپ نے فرمایا۔کوئی بات نہیں۔میں نے پتہ لے لیا ہے۔تیاری کر کے مقابلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔جاؤ گھروں میں آرام کرو۔اب دیکھو! آپ نے خطرے کی صورت میں اپنے کسی ساتھی کو بتایا نہیں نہ ساتھ لیا ہے بلکہ یکا و تنہا حالات کا پتہ لینے کے لئے نکل کھڑے ہوئے حالانکہ آپ کے صحابہ میں سے ہر ایک آپ کے لئے اپنا خون بہانے کے لئے تیار رہتا اور اس پر فخر کرتا تھا۔غرض خدا کی راہ میں قربانیاں دینے اور خدا کے لئے محبت اور خلوص کا اظہار کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے مثل اور منفرد تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے عرش پر اپنی دائیں طرف بٹھا لیا۔یہ مقام تو بہت بلند ہے۔یہ مقام تو عرش ربّ کریم ہے اس مقام تک تو میں اور آپ نہیں پہنچ سکتے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ امت کا ہر شخص اپنی قوت اور استعداد اور مخلصانہ کوششوں کے نتیجہ میں مقام عرش رب کریم سے ورے درے ساتویں آسمان تک پہنچ سکتا ہے۔یہ گویا ایک بہت بڑی بشارت تھی جو اُمت مسلمہ کو دی گئی ہے (جس کے دروازے بعض لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں حالانکہ ) یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے جو کھلے الفاظ میں امت مسلمہ کو دی گئی ہے لیکن آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ حقیقی معنوں میں مسلمان ہونے کے لئے محض بیعت کر لینا یا زبان سے اقرار کر لینا کافی ہو گا۔بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے قرب کو پانے کے لئے جس رنگ میں اور جس طور پر میں نے قربانیاں پیش کرنے کا نمونہ قائم کیا ہے اسی رنگ میں تمہیں بھی قربانیاں دینی پڑیں گی۔تب تم اللہ تعالیٰ کے پیار کو اپنی قوت اور استعداد کے مطابق حاصل کر سکو گے ورنہ نہیں۔