خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 180 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 180

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۸۰ خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء نہیں مانگتا تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ احکام الہی کے اجراء میں اپنے فعل اور نمونہ سے مدد کرو۔گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا جو مقصد ہے اس کو کامیاب کرنے کے لئے عمل اور نمونہ کے ساتھ کوشش کرنا۔اسی طرح تو قیر کے معنے عظم اور بجل (المنجد : زير لفظ بجل ) کے کئے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قول وفعل اور نمونہ سے اس عظیم شریعت کی مدد کرو گے تو بشارتوں کو پالو گے اور خدا کے پیار کو حاصل کرلو گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس قدر بشارتیں دی ہیں کہ پہلے انبیاء نے اس کا سواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی بشارتیں نہیں دیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بشارتیں تمہیں اس طرح نہیں ملیں گی جس طرح ایک آم کے درخت کے مالک کو ٹپکے کا آم پکنے کے بعد خود گر کر مل جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ تمہیں اس کے لئے اسی طرح قربانیاں دینی پڑیں گی جس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے مقصد کے حصول کے لئے بے شمار قربانیاں دی اور اس راہ میں قسم قسم کے دکھ اور تکلیفیں اٹھائی تھیں۔آپ کے صحابہ نے بھی آپ سے عشق و وفا کا اعلیٰ وعمدہ نمونہ دکھایا اور خدا کی راہ میں بڑی قربانیاں دیں۔چنانچہ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی بلند مقام کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہا گیا تھا۔صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا آپ نے حقیقتا صحابہ کا درجہ پایا ہے یا نہیں اصل سوال یہی ہے کیونکہ جس شخص نے دیکھا اور بیعت کی مگر کلی طور پر پایا نہیں اس کو وہ ثواب نہیں مل سکتا جو بیعت کرنے کے بعد قربانیاں دینے والے کو ملتا ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے بے شمار اور بے مثال قربانیاں دینی پڑیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا قربانیاں دینا آپ کی فطرت ثانیہ بن گئی تھی۔احادیث میں آتا ہے کہ جنگوں میں سب سے زیادہ خطرناک جگہ وہ سبھی جاتی تھی جو آپ کے قرب میں ہوتی تھی کیونکہ آپ کا وجود دشمن کا اصل نشانہ تھا چنا نچہ صحابہ میں سے جوسب سے