خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 182 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 182

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۸۲ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء تیسری بات جو پہلی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت کے طور پر بیان ہوئی ہے وہ آپ کا نذیر ہونا ہے۔آپ کی صفت کے مقابلہ میں اُمت مسلمہ پر صبح و شام تسبیح کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔تسبیح کے معنے ایک تو تنزیہ و تمجید کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے نقص، عیب اور کمزوری سے پاک سمجھنا اس کے دوسرے معنے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے مفردات امام راغب کی رُو سے اَلْمَرُ السَّرِيعُ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَ جُعِلَ ذَلِكَ فِي فِعْلِ الْخَيْرِ گو یا عبادت اللہ کی طرف تیزی سے دوڑ کر اور سرعت کے ساتھ جانا اور خیر اور نیکی بجالا نا تسبیح کے معنوں میں شامل ہے نذیر کی صفت میں ڈرانے کا ذکر ہے یعنی بعض ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے یا اقوال شنیعہ کے نتیجہ میں یا منافقانہ اور کافرانہ نیتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بن جاتے ہیں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ ور نہ جب تم پر خدا کا غضب بھڑکتا ہے تو وہ ایسا سخت ہوتا ہے کہ انسان ایک لحظہ کے لئے بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس معنی میں نذیر ہیں کہ آپ خدا کا غضب بھڑ کنے سے پہلے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہیں۔ان کو ہو شیار کرتے ہیں پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بنیادی صفت نذیر ہے۔اس صفت کے مقابلہ میں مسلمانوں پر تسبیح کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ان سے کہا گیا کہ وہ لوگ جو خدا سے دور جا پڑے ہیں اور ا اپنی اس دوری پر تسلی یافتہ ہیں۔ان کو جب ڈرایا جائے اور تنبیہ کی جائے تو اس وقت تمہارا فرض یہ ہے کہ تم عبادات بجالانے اور نیکی کے کام کرنے میں پہلے سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ لگ جاؤ۔اس لئے کہ جس وقت اندار ہوتا ہے یعنی کچھ لوگ بدیوں کی طرف جھکنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تنبیہ کے مورد ٹھہرتے ہیں قولاً یا فعلاً۔اس وقت خدا کے مومن بندہ کے دل میں شیطان یہ وسوسہ بھی پیدا کر سکتا ہے کہ تو بہت کچھ ہے دیکھ ! دوسروں پر خدا نے اپنا قہر نازل کیا مگر تجھ پر نازل نہیں کیا چنانچہ اس قسم کے شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ جو خدا کا نیک بندہ تھا اگر اسے ٹھوکر لگے تو بلعم باعور بن جاتا ہے۔ایسی صورت میں خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار اس کی نفرت اور غضب سے بدل جاتی ہے۔