خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 179
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷۹ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء لے گا مگر وہ کمز ور قسم کا ہوگا۔تاہم عکس تو وہی ہوگا، تصویر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی ایک روشن ہوگی دوسری دھندلی ہوگی۔اگر ہم صحیح معنی میں احمدی ہیں تو ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم صفات باری کی معرفت حاصل کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کو لائحہ عمل بنا ئیں۔میں اس حصہ کو پھر دوہرا دیتا ہوں کہ شاھد کی صفت کے مقابلہ میں ہماری ذمہ داری کے دو پہلو ہیں۔ان ہر دو پہلوؤں کے لحاظ سے ایک احمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صفات باری کی معرفت حاصل کرے۔صفات باری کا علم حاصل کرے۔ان کو پڑھے ، ان کی حقیقت کو پہچاننے کے لئے ان پر غور کرے اور دیکھے کہ صفات باری کی کس قدر حسین تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔دوسرے ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صفات باری کا رنگ اپنے وجود پر چڑھایا تھا۔جس طرح آپ صفات باری کے مظہر احم بنے تھے کیونکہ آپ کی استعدادا ئم تھی اور قوت ایسی تھی کہ جس کے مقابلہ میں کوئی انسانی قوت پیش نہیں کی جاسکتی لیکن اخلاص کے ساتھ قربانیاں دے کر اور مجاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ سے ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ محبت قائم کر کے اور اللہ تعالیٰ کے عشق اور پیار میں فنا ہو کر آپ نے اپنے اوپر جو رنگ چڑھایا تھا اسی طرح ہمیں بھی اپنی قوت اور استعداد کے مطابق انتہائی زور لگا کر وہی رنگ اپنے پر چڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت تھی مبشر ہونے کی۔اس صفت کے مقابلہ میں تُعَذِرُوهُ وَتُوَقرُوں کی رو سے تعزیر اور توقیر کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے المنجد میں عذر کے معنے ہیں النُّصْرَةُ مَعَ التَّعْظِیمِ یعنی کسی ہستی کی عظمت کے احساس کے ساتھ اس کی اعانت اور مدد کرنا تعرروہ میں ضمیر کا مرجع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے لیکن چونکہ آپ کی ذات کو تو کسی انسان کی عزت و تکریم کی ضرورت نہیں کیونکہ پہلے انبیاء کی زبان سے بھی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے بھی یہ کہلوایا گیا ہے کہ میں تم سے کوئی اجر