خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 175

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷۵ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء صفات باری کی ایک بنیادی صفت ہے میرے خیال میں (جس رنگ میں قرآن کریم نے ان کو پیش کیا ہے اس رنگ میں ) پہلی شرائع میں اس قسم کی بنیادی صفات کا ذکر بھی کوئی نہیں ہوگا کیونکہ پہلے انسان کی روحانی جس اور روحانی شعور اس قابل نہیں تھا کہ ان باریکیوں کو سمجھ سکے۔غرض ایک تو تعلیم کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے شاہد یا گواہ کے طور پر ہیں اور دوسرے آپ گواہ ہیں اپنے عمل کے لحاظ سے ، اپنے نمونہ کے لحاظ سے کیونکہ صفات باری کا بیان نوع انسانی کے لئے محض ایک فلسفیانہ مضمون کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس بیان میں انسان کی زندگی کو ایک خاص رنگ میں بدل کر رکھ دینا مقصود تھا اس پر انسان کو عمل کرنا تھا اور وہ یہی بنیادی تعلیم تھی جس کی جھلک انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ نازل ہوتی رہی اور جو کامل طور پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نازل ہوئی۔انسان کو اس کا مظہر بنا ہے یہی انسانی زندگی کا مقصد ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی نوع انسان کو تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ صفات باری کا مظہر بننے کی کوشش کریں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے شاہد ہیں اس معنی میں بھی کہ آپ نے کامل اور ائم طور پر اپنے وجود کو صفات باری کا مظہر بنا کر دنیا کو دکھا دیا گویا آپ کا وجود صفات باری کا مظہر اتم ہونے کی وجہ سے اس حقیقت کا گواہ ہے کہ صفات باری انسان پر جلوہ گر ہوتی ہیں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - (الدريت : ۵۷) چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں نوع انسانی نے عبد کامل کا ایک نہایت ہی حسین نمونہ دیکھا۔کوئی دوسرا انسان نہ تو ایسا حسین نمونہ پیش کر سکتا تھا اور نہ ہی اس رفعت اور عظمت کو پا سکتا تھا۔غرض جہاں تک صفات باری کا تعلق تھا اسے قرآنِ کریم میں بیان کر دیا۔جہاں تک صفات باری کے بیان کی غرض کا تعلق تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عملی نمونہ سے اور صفات باری کا مظہر اتم بن کر دنیا کو دکھا دیا۔گویا ہر دو اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم