خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 174

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷۴ خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء کے لحاظ سے۔صفات باری کے تعلق میں تاریخ نے پہلے انبیاء کی جو تعلیمات محفوظ کی ہیں اگر ان کا قرآن عظیم سے موازنہ کیا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ جس قدر وضاحت کے ساتھ جس قدر وسعت کے ساتھ جس قدر حسن کے ساتھ اور جس قدر دل موہ لینے والے انداز میں قرآن کریم نے صفات باری کو بیان کیا ہے، اس قدر اور اس قسم کا بیان پہلی کتب میں نہیں پایا جاتا تھا اس لئے کہ ابھی نوع انسانی انفرادی اور اجتماعی ہر دو اعتبار سے ارتقائی مدارج کو طے کر کے اس انتہائی رفعت تک نہیں پہنچی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ اُمتِ مسلمہ کے لئے مقدر تھی کیونکہ نوع انسان انتہائی رفعت کی تدریجی طور پر ترقی کر رہی تھی حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ انسان نے خدا کی صفات کے اپنے حالات اور استعداد کے مطابق کچھ جلوے دیکھے اور اس نور سے خود کو منور کیا۔پھر دیگر انبیاء علیہم السلام ( شرعی بھی اور غیر شرعی بھی ) مبعوث ہوتے رہے اور وہ نوع انسان کو روحانی لحاظ سے ترقی پر ترقی دے کر ارتقا کے مختلف مدراج میں سے گزارتے ہوئے اس درجہ تک لے آئے جس میں نوع انسانی نے (جس کی اُمت مسلمہ نمائندہ ہے ) حضرت نبی اکرم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ داخل ہونا تھا۔پس قرآنِ کریم میں جس رنگ میں صفات باری کا ذکر ہے اس رنگ میں پہلی امتوں کے سامنے ذکر نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہ اس کی حامل نہیں بن سکتی تھیں ان کے اندر اس کی استعداد اور طاقت نہیں پائی جاتی تھی۔غرض تعلیمی لحاظ سے قرآنِ کریم نے خدا تعالیٰ کی صفات پر گواہی دی۔قرآن کریم نے ہر صفت کو لیا اور پھر آگے اس کی تفصیلات کو بڑی وضاحت سے بیان کیا اس کے لئے شواہد پیش کئے۔خدا تعالیٰ کی بعض ایسی بنیادی صفات ہیں ( اشارہ ہی کر سکوں گا کیونکہ نفس مضمون کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ) جن کا تعلق سب صفات باری سے ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے سورۃ ملک میں بیان فرمایا ہے کہ تمام صفات باری کی بنیادی صفت یہ ہے کہ ان کے جلوؤں میں انسان کو کبھی تضاد نظر نہیں آئے گا چنانچہ صفات باری کے جو مختلف جلوے نوع انسانی پر نازل ہوتے ہیں ان پر اجتماعی نظر ڈالی جائے تو واقعی ان کے اندر کوئی تضاد نظر نہیں آتا اس لئے کہ تضاد کا نہ ہونا