خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 176

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷۶ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء صفات باری کے شاہد ہیں۔پھر اسی آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ آپ مبشر ہیں آپ دنیا کو بشارتیں دینے والے ہیں پھر آپ کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ نذیر ہیں۔آپ دنیا کو ڈرانے والے، انتباہ کرنے والے اور بدیوں اور بداعمالیوں سے روکنے والے ہیں جو باتیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بنا دیتی ہیں ان کو بتا کر دنیا کو ان سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تین بنیادی صفات ہیں جو اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں اس کے مقابل امت مسلمہ پر (چونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے نتیجہ میں نوع انسانی کی بہترین نمائندہ ہے اس لئے اس پر ) تین ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں چونکہ آپ شاہد ہیں اس لئے فرمایا تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر ایمان لاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاؤ۔اس بات پر یقین رکھو کہ آپ کے اُسوہ حسنہ پر چلنا نوع انسانی کے لئے ضروری ہے گویا آپ کی شاہد کی صفت کے مقابلہ پر عقلاً بھی اور شرعاً بھی انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے اور آپ کے اُسوہ حسنہ پر چل کر سعادتِ دارین پائے۔پھر چونکہ آپ مبشر ہیں اس لحاظ سے انسان پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے وہ ان الفاظ میں مضمر ہے۔وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ (الفتح :۱۰) فرمایا آپ کی تعظیم کو دیکھ کر ، آپ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے آپ کے مشن کی کامیابی کے لئے کام کر و اسلام کی مدد کرو اور اس کی نصرت کرو آپ کی عظمت کا اقرار محض زبان سے نہیں کرنا بلکہ ساتھ عمل بھی کرنا ہے گویا اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ تم اپنے قول اور عمل سے اس عظیم شریعت کی مدد کرو گے تو خدا کے پیار کو پا لو گے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم خالی ایمان لے آؤ گے بلکہ فرمایا ہے کہ مُبَشِّرًا کی حیثیت سے آپ کے ذریعہ دنیا کو جو بشارتیں دی گئی ہیں ان پر بھی یقین رکھو گے اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے قول اور فعل کو آپ کے اُسوہ حسنہ کے مطابق بنا لو گے تو وہ بشارتیں تمہیں مل جائیں گی جو انسانیت کے