خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 173

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷۳ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کے لئے شاہد ، مبشر اور نذیر تھے خطبه جمعه فرموده ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔اِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا - لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا - (الفتح : ٩، ١٠) اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔یہ دو آیات جو اس وقت میں نے تلاوت کی ہیں۔ان میں سے پہلی آیت میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین صفات بیان ہوئی ہیں یا تین بنیادی کام جو آپ کے سپرد ہیں ان کا ذکر ہے جبکہ دوسری آیت میں تین بنیادی ذمہ داریوں کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین صفات کے نتیجہ میں اُمّتِ مسلمہ پر عائد ہوتی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول ! ہم نے تجھے شاھد بنا کر مبعوث کیا ہے شاھد کے معنے صفات باری پر گواہ کے ہیں اور یہ گواہی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دوطور پر دی گئی ہے ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے لحاظ سے اور دوسری آپ کے اسوۂ حسنہ