خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 587
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۷ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء کیونکہ جو ظالم ہے وہ تو خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہے جو ظالم ہے وہ خدا تعالیٰ کا پیار حاصل نہیں کر سکتا اور اسلام اس لئے دنیا میں قائم ہوا ہے کہ دنیا کا ہر انسان اپنے دائرہ استعداد کے اندر خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے تو ظالم کا ہاتھ پکڑنا اس کی مدد ہے۔چور کو چوری نہ کرنے دینا یہ اس کی مدد ہے۔ورنہ دنیوی قانون کی گرفت میں بھی وہ آ جائے گا اور الہی قانون کی گرفت میں بھی وہ آ جائے گا۔یہ اس کی مدد نہیں کہ آپ آرام سے بیٹھے رہیں کہ ہمیں اس سے کیا۔کیا تمہیں اس سے کچھ نہیں کہ تمہارا بھائی خدا کے غضب کی جہنم میں جارہا ہے اگر تم نے جو آج ربوہ میں رہتے ہو اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو یقیناً باہر سے آکر لوگ اس جگہ کو آباد کریں گے اور تمہارے لئے اس میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور رَحْمَةٌ لِلعلمین کی طرف سے جو عوام کے لئے رحمت مجسم بن کر آیا تھا تمہیں ظلم کو روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ عالمین جو ہے یہ ایک لحاظ سے عوام ہی ہیں نا یا ان کے ذرئع یا ان کی دولتیں یا ان کے Source of Wealth وغیرہ عالمین کا حصہ ہیں پس یہ ہیں عوام اور یہ ہے عوام کے حق میں اور عوامی حکومت جہاں کوئی استحصال نہ ہو۔جہاں ہر کسی کو اس کا حق دیا جائے۔اس جھنڈے کے ہم علمبر دار ہیں۔یہ جھنڈا ہے ( کالا اور سفید ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ اندھیروں میں وہ آئے اور عالمین کو منور کر دیا۔یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈوں کا رنگ ہے یعنی سیاہ اور سفید۔یہ سبز جھنڈے بعد کے ہیں۔شاید سو سال بعد بنے ہیں۔اصل جھنڈا جو ہے وہ کالا اور سفید رنگ کا ہے۔پس آپ ظلمات کی رات میں آئے لیلۃ القدر میں آئے۔لیلۃ القدر منور رات تو نہیں ہوتی لیلتہ القدر وہ رات ہوتی ہے جب چاند بھی اپنی روشنی کا بہت سارا حصہ کھو چکا ہوتا ہے اگر ۲۱ رکو آ جائے تو پھر بھی پورے چاند کو ایک ہفتہ گزر گیا یا پھر ۲۹ کو آئے تو بالکل اندھیری رات ہوتی ہے تو لیلۃ القدر میں آپ آئے اور اس کو روشن کر دیا اس واسطے خدا تعالیٰ نے آپ کو کہا اپنا جھنڈا کالا اور سفید بناؤ کالا یہ یاد دلانے کے لئے کہ میں اندھیروں کو منور کرنے آیا ہوں اور سفید یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میں نے اندھیروں کرمنور کر دیا روشن کر دیا۔تو یہ ہے عوامی حکومت اور اُمت محمدیہ ہی حقیقی معنوں میں عوام ہے۔غیر نے تو عوام کے معنی ہی نہیں سمجھے۔