خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 586
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۶ خطبہ جمعہ ۱۵ ؍دسمبر ۱۹۷۲ء عوام دشمن عناصر ہو یا تو اعلان کرو۔ہم عوامی پارٹی کے مخالف نہیں ہیں اور جب یہ اعلان کرو گے تو ہم کہیں گے لائل پور میں جا کر چلاؤ۔کیونکہ عوامی حکومت کا تو مطلب ہی یہی ہے۔عوامی حکومت کے مرکز نے ایک بنیادی Policy ( پالیسی ) وضع کرنی ہے۔یہ بنیادی پالیسی ہے کہ ہم آٹھویں جماعت تک مفت تعلیم دیں گے۔یہ بنیادی پالیسی ہے کہ ہم اتنی نئی درسگا ہیں کھول دیں گے۔یہ بنیادی پالیسی ہے کہ ہم تعلیمی اداروں کا اس قسم کا انتظام قائم کریں گے یہ بنیادی پالیسی ہے کہ ہم سائنسدانوں کو وظائف دے کر باہر بھیجیں گے تاکہ سائنسدانوں کی ضرورت ہمارے ملک میں پوری ہو جائے یہ بنیادی طور پر حکومت کا کام ہے۔لیکن اس بات کا فیصلہ کرنا کہ سرگودھا کا ماحول کیسا رہے۔اس بات کا فیصلہ کرنا کہ لائل پور کا ماحول کیسا رہے اس بات کا فیصلہ کرنا (جو بنیادی ہدایت ہے مرکزی حکومت کی طرف سے اس کے اندر رہتے ہوئے ) کہ ملتان کا ماحول کیسا رہے۔اس بات کا فیصلہ کرنا کہ شیخو پورہ کا ماحول کیسا رہے۔اس بات کا فیصلہ کرنا کہ سیالکوٹ کا ماحول کیسا رہے یہ ان شہروں کا کام ہے (اسی طرح دوسروں شہروں کا ) اور اس بات کا فیصلہ کرنا کہ ربوہ میں کسی قسم کا حسین ماحول قائم رہے گا یہ احباب ربوہ کا کام ہے اور کوئی عقلمند آدمی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔حکومت تو ویسے ہی اعتراض نہیں کرے گی لیکن کسی اور کی طرف سے بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔حالات کچھ اس قسم کے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ملک کو ملک دشمن عناصر کے منصوبوں سے محفوظ رکھے جیسا کہ میں نے بتایا کہ پہلے ایک بیان آیا اور پھر اس کے بعد ایک سخت بیان آیا۔آج کا بیان تو بہت زیادہ سخت ہے اس سے بھی یہ پتہ لگتا ہے کہ ملک دشمن عناصر کا مقصد یہ ہے کہ جگہ جگہ خون بہایا جائے۔آپ ذمہ دار ہیں ربوہ میں کوئی خون نہیں ہے گا نہ احمدی کا نہ کسی اور کا۔ربوہ کو اپنی پیاری فضا، جس میں ایک دوسرے سے پیار کیا جاتا ہے کو قائم رکھنا چاہیے اور آپ ظالم کی بھی مدد کریں اور مظلوم کی بھی مدد کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔یہ ہے عوامی حکومت جو ظالم کی بھی مدد کرتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مظلوم کو ظلم سے بچا کر اس کی مدد کرو اور ظالم کو اس کے ہاتھ پکڑ کے کہ وہ ظلم نہ کر سکے ، اس کی مدد کرو