خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 585
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۵ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء ہے۔اسی کے عین مطابق ذمہ داریاں بھی آپ پر زیادہ ہیں اور آپ ہیں کتنے جماعت میں۔مغربی پاکستان کی احمد یہ جماعت کا آپ اہل ربوہ۔ایک فی صد بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت کہیں سے کہیں پہنچ گئی اور اتنی بڑی رقمیں مرکز میں خرچ کی جاتی ہیں۔باہر والے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن میں نے بتایا ہے کہ ان کو زیادہ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔آپ کے گھر میں یہ سہولت ہے آپ جماعت کی تعداد کے مقابلہ میں ایک فیصد بھی نہیں اور اتنی نعمتیں خدا تعالیٰ نے آسمان سے بارش کی طرح نازل کر دی ہیں۔اگر آپ اپنی ذمہ داریاں نہیں نباہیں گے تو ایک فیصد کی خدا تعالیٰ اتنی پرواہ نہیں کرے گا جتنی نانوے فیصد مخلصین کی وہ کرے گا۔باہر سے لوگ آ جائیں گے پھر آپ باہر چلے جائیں گے وہ یہاں رہیں گے۔ان کے دل میں خدا تعالیٰ قدر پیدا کرے گا مرکز اور اس کی ذمہ داریوں کی ایک نعرہ جو یہ لگا کہ آج عوامی حکومت ہے ٹھیک ہے ہم خوش ہیں عوامی حکومت ہے۔کون ہیں عوام ! ہم ہیں عوام۔احمدی سے زیادہ عوامی کون ہے ہم پہلے بھی عوامی تھے۔جب عوامی حکومت نہیں تھی اور اب بھی عوامی ہیں۔ہم وہ عوام ہیں جو اس حقیقت کو ابتداء سے جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے اور محبوب جس کے لئے یہ کہا گیا تھا۔لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک کہ اگر تیرے وجود کو میں نے پیدا نہ کرنا ہوتا تو اس عالمین کو بھی میں پیدا نہ کرتا آپ نے یہ حسین اعلان کیا تھا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم (الكهف : ١١١) کہ یہ اعلان کر دو کہ میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں۔بشر ہونے کے لحاظ سے دونوں ایک جیسے ہیں۔جس جماعت نے ، جس اُمتِ مسلمہ احمدیہ نے اس حقیقت کو پہچانا وہ عوام ہے وہ پہلے بھی عوامی جماعت تھی اور اب بھی عوامی جماعت ہے۔عوامی جماعت کا مطلب یہ ہے کہ وہ صیح اصول ، وہ نیکی کی باتیں ، وہ آپس میں ایک دوسرے کی معاونت اور ہر قسم کے پاک اقوال پاک اعمال کا مجموعی طور پر جو ماحول ہے۔ربوہ کے تعلیمی اداروں کا ویسا ہی پاک ما حول قائم رہے گا۔کل کو عوام دشمن عناصر لائل پور والے یا چنیوٹ والے یہاں آکر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم عوام ہیں ہم یہاں اپنی مرضی چلائیں گے۔عوام ہو ؟ تو تم تو